تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 245
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۵ سورة الاعراف آیت: قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جو ریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطالع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں اردو نے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک زبان مشترک ہو گئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بزبان حال درخواست کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کیلئے بدل و جان سرگرم ہیں۔آپ تشریف لائے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجیے کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کا فہ ناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُن تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں تب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں مگر میں ملک ہند میں آؤں گا کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل محل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا۔پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہئے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جائے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۰ تا ۲۶۳) قرآن کا مقصد تھا وحشیانہ حالت سے انسان بنانا ، انسانی آداب سے مہذب انسان بنانا ، تا شرعی حدود اور احکام کے ساتھ مرحلہ طے ہو، اور پھر باخدا انسان بنانا۔یہ لفظ مختصر ہیں مگر ان کے ہزار ہا شعبے ہیں۔چونکہ یہودیوں طبیعیوں ، آتش پرستوں اور مختلف اقوام میں روشنی کی روح کام کر رہی تھی۔اس لیے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا اس لئے قرآن شریف کی آیت : وأَخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : ۴) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہئے تھا اُس وقت باعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا سو اس فرض کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کیلئے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔