تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 244
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۴ سورة الاعراف اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے اور آپ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت فرمایا گیا تھا: وَلكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَم النَّبِينَ (الاحزاب : ۴۱ ) اور نیز آپ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا : قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا سو اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسی تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت: قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ اليكم جَمِيعًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہوسکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے۔بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ۷ ۱۲۵ ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کا ملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دُور دُور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اسے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہر گز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ : ومن بلغ (الانعام :۲۰۰) یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغ قرآنی اُن وَمَنْ تک نہیں پہنچی۔ایسا ہی آیت : وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعۃ : ۴) اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منھم کا لفظ ہے وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کے لئے موزوں ہے مبعوث ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔۔۔۔۔۔اس وقت حسب منطوق آيت : وَ آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور نیز حسب منطوق