تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 240

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۰ سورة الاعراف غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر مجوب و مستور کر دیتا ہے یہی معنی ہیں اس آیت کے کہ : عَذَ إِلَى أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ یعنی رَحْمَتِي سَبَقَتْ غضبنی۔اگر یہ اصول نہ مانا جائے تو تمام شریعتیں باطل ہو جاتی ہیں۔تحفه نز نوید، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۳۷) عَذَالَى أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ یعنی عذاب تو میرا خاص صورتوں ۚ میں ہے جس کو چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر ایک چیز تک پہنچ رہی ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۵) آریہ وغیرہ جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا تعالیٰ کو غضب ناک کہا گیا ہے۔یہ ان کی صریح غلطی ہے ان کو چاہیے تھا کہ قرآن مجید کی دوسری جگہوں پر نظر کرتے۔وہاں تو صاف طور پر لکھا ہے: عَذَ إِلَى أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ - خدا کی رحمت تو کل چیزوں کے شامل حال ہے۔مگر ان کو وقت ہے تو یہ ہے کہ خدا کی رحمت کے تو وہ قائل ہی نہیں۔ان کے مذہبی اصول کے بموجب اگر کوئی شخص بصد مشکل مکتی حاصل کر بھی لے تو آخر پھر وہاں سے نکلنا ہی پڑے گا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲ مورخه ۶ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِى الأمى الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُم فِي التَّوَريةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْههُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطيبتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَ عَزَرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَةَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ چالاکی سے علوم القرآن نہیں آتے۔دماغی قوت اور ذہنی ترقی قرآنی علوم کو جذب کرنے کا اکیلا باعث نہیں ہوسکتا۔اصل ذریعہ تقویٰ ہی ہے متقی کا معلم خدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر امیت غالب ہوتی ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے امی بھیجا کہ باوجود یہ کہ آپ نے نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو استاد بنایا۔پھر آپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کئے جنہوں نے دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور