تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 233
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۳۳ سورة الاعراف قرآن شریف کی رُو سے سلسلہ محمد یہ سلسلہ موسویہ سے ہر یک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے۔اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے : فَيَنْظُر كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔دوسری جگہ مسلمانوں کے حق میں لکھا ہے۔لِنَنْظُر كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس : ۱۵)۔ان دونوں آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کئے ہیں وہی مسلمانوں کے لئے۔یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے۔پس ان آیتوں سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کون سا ثبوت ہوسکتا ہے کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دے دیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء اُن کے۔اس اُمت کے علماء بھی انہیں بدیوں کے مرتکب ہوں گے۔اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ (الفاتحہ (۷) میں بھی اشارہ ہے۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۳) یہودیوں کے بادشاہوں کے اُن مثیلوں کا جو اسلام میں پیدا ہوئے جیسا کہ ان دو بالمقابل آیتوں سے جن کے الفاظ باہم ملتے ہیں سمجھا جاتا ہے اور وہ یہ ہیں:۔یہودیوں کے بادشاہوں کی نسبت قال على رَبِّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدوكم اسلام کے بادشاہوں کی نسبت ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلِيفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَ يَسْتَخْلِفَكُمُ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔199196 (الاعراف : ۱۳۰) (یونس : ۱۵) تعملون الجز و نمبر ۹ سورۃ الاعراف صفحه ۱۶۵ الجز ونمبر ۱۱ سورۃ یونس صفحه ۳۳۵ یہ دو فقرے یعنی فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ جو یہودیوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے اور اُس کے مقابل پر دوسرا فقرہ یعنی لِنَنْظُر كَيْفَ تَعْمَلُونَ جو مسلمانوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے صاف بتلا رہے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے بادشاہوں کے واقعات بھی باہم متشابہ ہوں گے۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور جس طرح یہودی بادشاہوں سے قابل شرم خانہ جنگیاں ظہور میں آئیں اور اکثر کے چال چلن بھی خراب ہو گئے یہاں تک کہ بعض اُن میں سے بدکاری، شراب نوشی، خونریزی اور سخت بے رحمی میں ضرب المثل ہو گئے۔یہی طریق اکثر مسلمانوں کے بادشاہوں نے اختیار کئے۔ہاں ! بعض یہودیوں کے نیک اور عادل بادشاہوں کی