تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 226

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۶ سورة الاعراف بِإِذْنِ رَيْهِ ۚ وَالَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلا نَكِدا - یہ تمثیل اسلام کی ہے جب کوئی رسول آتا ہے تو انسانی فطرتوں کے سارے خواص ظاہر ہو جاتے ہیں۔ان کے ظہور کا یہ خاصہ اور علامات ہیں کہ مخلص سعید الفطرت اور مستعد طبیعت کے لوگ اپنے اخلاص اور ارادت میں ترقی کرتے ہیں اور شریر شرارت میں بڑھ جاتے الحکم جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۴) ہیں۔وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ الا نكدا نہیں نکلتی کھیتی اس کی مگر تھوڑی۔برائن احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۱۹) ج وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا اَنْ قَالُوا اَخْرِجُوهُم مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ إِنَّهُمْ أَنَاسٌ يتطهرون (۸۳) لوط کی قوم نے فسق و فجور میں جبر تک نوبت پہنچائی اور جب ان کو سمجھایا گیا تو لوط اور اس کے اصحاب کی نسبت انہوں نے اپنے رفیقوں کو وہ کہا جو قرآن شریف میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔اخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُم أَنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ یعنی ان لوگوں کو اپنے گاؤں سے باہر نکالو۔یہ تو طہارت اور تقویٰ لیے ج - پھرتے ہیں یعنی ہمارے مخالف اور اور باتیں لوگوں کو کہتے ہیں۔پس خدا کا غضب انہیں قوموں پر بھڑ کا اور ان کو صفحہ زمین سے نا پدید کر دیا۔انتقام جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۵ صفحه ۶) و إلى مَدينَ أَخَاهُمُ شُعَيْبًا قَالَ يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُه وَ قد جَاءَ تَكُم بَيْنَةُ مِنْ رَبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۖ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ) وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاء هم۔۔۔۔۔اور کسی طور سے لوگوں کو ان کے مال کا نقصان نہ پہنچاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمْ بَعْدَ إِذْ نَجْنَا اللهُ مِنْهَا وَمَا