تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 212

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ سورة الاعراف اور مخلوقیت کا تعلق قائم کر کے پھر عرش پر قائم ہو گیا یعنی تمام تعلقات کے بعد الگ کا الگ رہا اور مخلوق کے ساتھ مخلوط نہیں ہوا۔غرض خدا کا انسان کے ساتھ ہونا اور ہر ایک چیز پر محیط ہونا یہ خدا کی تشبیہی صفت ہے۔اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا ہے کہ تا وہ انسان پر اپنا قرب ثابت کرے اور خدا کا تمام مخلوقات سے وراء الوراء ہونا اور سب سے برتر اور اعلیٰ اور دُور تر ہونا اور اس تنزہ اور تقدس کے مقام پر ہونا جو مخلوقیت سے دُور ہے جو عرش کے نام سے پکارا جاتا ہے اُس صفت کا نام تنزیہی صفت ہے اور خدا نے قرآن شریف میں اس لئے اس صفت کا ذکر کیا تاوہ اس سے اپنی توحید اور ا پنا ؤ حدہ لا شریک ہونا اور مخلوق کی صفات سے اپنی ذات کا منزہ ہونا ثابت کرے۔دوسری قوموں نے خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت یا تو تنزیہی صفت اختیار کی ہے یعنی نرگن کے نام سے پکارا ہے اور یا اس کو سرگن مان کر ایسی تشبیہ قرار دی ہے کہ گویا وہ عین مخلوقات ہے اور ان دونوں صفات کو جمع نہیں کیا۔مگر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں صفات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دکھلایا ہے اور یہی کمال تو حید ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۹٬۹۸) تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑ ا یعنی اوّل اس نے اس دُنیا کے تمام اجرام سماوی اور ارضی کو پیدا کیا اور چھ دن میں سب کو بنایا ( چھ دن سے مراد ایک بڑا زمانہ ہے ) اور پھر عرش پر قرار پکڑ ا یعنی تنزہ کے مقام کو اختیار کیا۔یادر ہے کہ استوا کے لفظ کا جب علی صلہ آتا ہے تو اُس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کا اس مکان پر قرار پکڑ نا جو اس کے مناسب حال ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے۔وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِی یعنی نوح کی کشتی نے طوفان کے بعد ایسی جگہ پر قرار پکڑا جو اُس کے مناسب حال تھا یعنی اُس جگہ زمین پر اترنے کے لئے بہت آسانی تھی سو اسی لحاظ سے خدا تعالی کے لئے استوا کا لفظ اختیار کیا یعنی خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کی تنزہ اور تقدس کے مناسب حال تھی چونکہ تلڑہ اور تقدس کا مقام ماسوی اللہ کے فتا کو چاہتا ہے سو یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے خدا بعض اوقات اپنی خالقیت کے اسم کے تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر دوسری مرتبہ اپنی تنڑہ اور وحدت ذاتی کے تقاضا سے اُن سب کا نقش ہستی مٹادیتا ہے۔غرض عرش پر قرار پکڑ نا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ خدا اور مخلوق کو باہم مخلوط سمجھا جائے۔پس کہاں سے معلوم ہوا کہ خدا