تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 210

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن شریف میں تین قسم کے فرشتے لکھے ہیں ؟ (۱) ذرات اجسام ارضی اور روحوں کی قوتیں۔۲۱ (۲) اکاش، سورج، چاند، زمین کی قو تیں جو کام کر رہی ہیں۔سورة الاعراف (۳) ان سب پر اعلی طاقتیں جو جبرائیل و میکائیل و عزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو وید میں جم لکھا ہے مگر اس جگہ فرشتوں سے یہ چار دیوتے مراد ہیں یعنی اکاش اور سورج وغیرہ جو خدا تعالیٰ کی چار صفتوں کو اٹھا رہے ہیں۔یہ وہی صفتیں ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا گیا ہے۔اس فلسفہ کا وید کو بھی اقرار ہے مگر یہ لوگ خوب ویددان ہیں جو اپنے گھر کے مسئلہ سے بھی انکار کر رہے ہیں۔غرض وید کے یہ چار دیوتے یعنی اکاش، سورج، چاند، دھرتی خدا کے عرش کو جو صفت ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالک یوم الدین ہے اٹھا ر ہے ہیں اور فرشتہ کا لفظ قرآن شریف میں عام ہے ہر ایک چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کا فرشتہ ہے۔پس دنیا کا ذرہ ذرہ خدا کا فرشتہ ہے کیونکہ وہ اس کی آواز سنتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اگر ذرہ ذرہ اُس کی آواز سنتا نہیں تو خدا نے زمین آسمان کے اجرام کو کس طرح پیدا کر لیا اور یہ استعارہ جو ہم نے بیان کیا ہے اس طرح خدا کے کلام میں بہت سے استعارات ہیں جو نہایت لطیف علم اور حکمت پر مشتمل ہیں۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۵۵ تا ۴۵۷) واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ ( سورۃ فاتحہ۔ناقل ) میں ان چار صفتوں کو اپنی الوہیت کا مظہر اتم قرار دیا ہے اور اسی لئے صرف اس قدر ذکر پر یہ نتیجہ مترتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار صفتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے اور در حقیقت یہ صفتیں بہر وجہ کامل ہیں اور ایک دائرہ کے طور پر الوہیت کے تمام درحق لوازم اور شرائط پر محیط ہیں کیونکہ ان صفتوں میں خدا کی ابتدائی صفات کا بھی ذکر ہے اور درمیانی زمانہ کی رحمانیت اور رحیمیت کا بھی ذکر ہے اور پھر آخری زمانہ کی صفت مجازات کا بھی ذکر ہے اور اصولی طور پر کوئی فعل اللہ تعالیٰ کا ان چار صفتوں سے باہر نہیں۔پس یہ چار صفتیں خدا تعالی کی پوری صورت دکھلاتی ہیں۔سو در حقیقت استو اعلی العرش کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفات جب دنیا کو پیدا کر کے ظہور میں آگئیں تو خدا تعالیٰ ان معنوں سے اپنے عرش پر پوری وضع استقامت سے بیٹھ گیا کہ کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت سے باہر نہیں رہی اور تمام صفات کی پورے طور پر جلی ہوگئی جیسا کہ جب اپنے تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے تو تخت نشینی کے وقت اس کی ساری شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ایک طرف شاہی ضرورتوں کے لئے طرح طرح کے