تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 198

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٨ سورة الاعراف ہیں یہ اوپر نہیں جاسکتے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے جواب میں فرمایا: قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَسُولاً (بنى اسرائیل : ۹۴)۔یعنی ان کو کہہ دے میرا رب اس سے پاک ہے جو اپنے وعدوں کے خلاف کرے جو وہ پہلے کر چکا ہے۔میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔سبحان کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ سابق جو وعدے ہو چکے ہیں ان کی خلاف ورزی وہ نہیں کرتا۔وہ وعدہ کیا ہے ؟ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ و متاع إلى حِينٍ ( الاعراف : ۲۷) اور ایسا ہی فرمایا: اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كفانا (المرسلات (۲۶) اور پھر فِيهَا تَحْيَونَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ۔ان سب آیتوں پر اگر دیکھائی نظر کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جسم جو کھانے پینے کا محتاج ہے آسمان پر نہیں جاتا۔اقام جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) يبني ادم قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِى سَواتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ أَيْتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذْكُرُونَ۔b قَد اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا ہم نے تم پر لباس اُتارا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۴۵ حاشیه ) ثُمَّ انْظُرُ أَنَّهُ تَعَالَى قَالَ فِي مَقَامٍ | اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے: قَد اَنْزَلْنَا اخَرَ : قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا، وَقَالَ: عَلَيْكُمْ لِبَاسًا اور پھر فرمایا: اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ نیز فرمایا: انزَلْنَا الْحَدِيدَ وَانْزَلَ لَكُمْ مِنَ وَانْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَام اور یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ ↓ الْأَنْعَامِ ، وَمَعْلُومٌ أَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاء یہ سب چیزیں آسمان سے نہیں اترتیں۔ہاں! اللہ تعالیٰ نے لا تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ فَمَا عَزَاهَا الله انہیں آسمان کی طرف یہ اشارہ کرنے کے لیے منسوب کیا إلَيْهَا إِلَّا إِشَارَةٌ إلى أَنَّ الْعِلَّةَ الأولى من ہے کہ ان اسباب میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کی تخلیق الْعِلَلِ الَّتِي قَدَّدَ اللهُ تَعَالَى لِخَلْقِ تِلْكَ اور تکوین اور پیدا کرنے کے لیے مقدر فرمائے ہیں ان میں الأَشْيَاء وَتَوَلُّيهَا وَتَكَونِهَا تَأْثِيرات سے پہلی علت آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کی تاثیرات فَلْكِيَّةٌ وَشَمْسِيَّةٌ وَقَمَرِيَّةٌ وَنُجُومِيَّةٌ ہیں اور ان آیات میں اللہ عز وجل نے اس بات کی طرف وَأَشَارَ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذِهِ الآيَاتِ إِلى أَن اشارہ فرمایا ہے کہ زمین عورت کی مانند ہے اور آسمان اس الْأَرْضَ كَامْرَأَةِ وَالسَّمَاء كَبَعْلِهَا، وَلا کے خاوند کی مانند ہے ان میں سے ایک کا کام دوسرے تَتِمُّ فِعْلُ إِحْدَاهُمَا إِلَّا بِالْأُخرى، کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔پس ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے الحديد : ٢٦ الزمر :