تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 197

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ سورة الاعراف وَيَحْسَبُونَ كَأَنَا تَرَكْنَا النُّصُوص متعلق گمان کرتے ہیں کہ ہم نے مسیح کے جسم عنصری کے ساتھ الْقُرانِيَّةَ فِي رَفْعِ الْمَسِيحِ بِجِسْمِهِ آسمان پر جانے سے متعلق نصوص قرآنیہ کوترک کر دیا ہے۔ پس الْعُنْصُرِي، فَلْيَتَدَبَّرِ الْعَاقِلُ هُهُنا عقلمندوں کو اس مقام پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے اس عقیدہ سے أَنَحْنُ تَرَكْنَا الْقُرْآنَ وَنُصُوصَهُ في متعلق قرآن کریم اور اس کی نصوص کو چھوڑ دیا ہے یا ہمارے هُذِهِ الْعَقِيدَةِ أَمْ هُمْ كَانُوا تَارِكِينَ؟ مخالفین خود ترک کرنے والے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ عزو وَقَالُوا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: بَلْ جل نے فرمایا: بل رفعه الله اور وہ اس آیت سے مسیح کے جسم رفَعَهُ اللهُ، وَيَحْتَجُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ کے اُٹھائے جانے پر استدلال کرتے ہیں اور وہ اس بات پر غور عَلَى رَفْعِ جِسْمِ الْمَسِيحِ، وَلَا نہیں کرتے کہ اگر بات اسی طرح ہی ہو تو (اس صورت میں ) يَتَدَبَّرُونَ أَنَّ الْأَمْرَ لَوْ كَانَ كَذَالِكَ دونوں آیات میں تعارض پیدا ہو جاتا ہے یعنی آیت: بَلْ رَفَعَهُ لَتَعَارَضَ الْأَيْتَانِ أَعْنِي آيَةً بَلْ اللهُ إِلَيْهِ اور آیت : فِيهَا تَحْيون میں اور تم اس بات سے بخوبی رفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَآيَةً فِيهَا تَحْيَوْنَ واقف ہو کہ قرآن تعارض اور تخالف سے پاک ہے کیونکہ وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ الْقُرْآنَ مُنَزَّهُ عَنِ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق فرماتا ہے: وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ التَّعَارُضِ وَالتَّخَالُفِ، وَقَالَ اللهُ تعالى: وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ۔ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَأَشَارَ ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے ) پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ قرآن میں ہر گز اختلاف نہیں پایا جاتا اور فِي هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّ الْاخْتِلَافَ لَا يُوجَدُ فِي الْقُرْآنِ، وَهُوَ كِتَابُ اللهِ وَشَأْتُه اس کی شان اس سے بہت ارفع ہے کہ جواللہ کی کتاب ہے۔ اس أَرْفَعُ مِنْ هَذَا، وَإِذَا ثَبَتَ أَنَّ كِتَابَ میں اختلاف پایا جائے ۔ پس جبکہ یہ امر ثابت ہو گیا کہ کتاب اللہ اللهِ مُنَزَّهُ عَنِ الْإِخْتِلَافَاتِ فَوَجَبَ اختلافات سے پاک و منزہ ہے تو ہم پر ضروری ٹھہرا کہ اس کی تفسیر عَلَيْنَا أَلَّا نَخْتَارَ فِي تَفْسِيرِہ طَرِيقًا کے سلسلہ میں کوئی ایسا طریق اختیار نہ کریں جو تعارض اور تناقض يُوجِبُ التَّعَارُضَ وَالتَّنَاقُضَ پیدا کرنے کا موجب ہو۔ (ترجمہ از مرتب) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۵۴ تا ۲۵۶ حاشیه ) سچی اور بالکل سچی اور صاف بات یہی ہے کہ اجسام ضرور ملتے ہیں لیکن یہ عن رور ملتے ہیں لیکن یہ عنصری اجسام یہاں ہی رہ جاتے لو النساء : ۵۹