تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 190

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰ سورة الاعراف قَالَ انْظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ) کے قرآن شریف اُس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے : قَالَ انْظِرْنِي إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اُس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مردے جن ۔ دل مر گئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں ۔ خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اُس وقت تک مہلت دی ۔ سو وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔ جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورۃ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاری کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔ اگر دجال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا : وَلَا الضَّالِّينَ یہ فرمانا چاہئے تھا کہ : وَلَا الدجال۔ اور آیت : إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے مراد جسمانی بحث نہیں کیونکہ شیطان صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں ۔ ہاں ! شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں اور چونکہ وہ گروہ ہے اس لئے اُس کا نام دجال رکھا گیا ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں دجال گروہ کو بھی کہتے ہیں۔ اور اگر دجال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے وہ یہ کہ جن حدیثوں سے یہ پتہ یہ پتہ لگتا ہے کہ آخری دنوں میں دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا انہیں حدیثوں سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آخری دنوں میں کلیسیا کی طاقت تمام مذاہب پر غالب آجائے گی۔ پس یہ تناقض بجز اس کے کیوں کر دور ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں ۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۱) قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ بہت لوگ ہیں کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے ۔ انسان کے اپنے نفس کے ہی ظلم ہوتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے۔ بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک