تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 147
۱۴۷ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ایک شرط لگی ہوئی ہے کہ لَم يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلم کہ جو لوگ اپنے ایمانوں کو ظلم سے نہ ملاویں گے وہ امن میں رہیں گے۔۔۔۔۔لَم اَشْرَكُوا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ میں شرک سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہندوؤں کی طرح پتھروں کے بتوں یا اور مخلوقات کو سجدہ کیا بلکہ جو شخص ماسوا اللہ کی طرف مائل ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہے حتی کہ دل میں جو منصوبے اور چالاکیاں رکھتا ہے ان پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ بھی شرک ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۳۳) بعض وقت انسان موجودہ حالت امن پر بھی بے خطر ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ امن میں زندگی گذارتا ہوں مگر یہ غلطی ہے کیونکہ یہ تو معلوم نہیں ہے کہ سابقہ زندگی میں کیا ہوا ہے اور کیا کیا بے اعتدالیاں اور کمزوریاں ہو چکی ہیں اس واسطے مومن کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ کبھی بے خوف نہ ہو اور ہر وقت تو بہ اور استغفار کرتا رہے کیونکہ استغفار سے انسان گذشتہ بدیوں کے برے نتائج سے بھی خدا کے فضل سے بچ رہتا ہے یہ سچی بات ہے کہ تو بہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۵ ) اگر ہمارا کوئی مرید طاعون سے مرجاتا ہے تو اس پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ خدا کے کلام میں یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ صرف بیعت کرنے والا ہی اس سے محفوظ رہے گا بلکہ اس نے ایک دفعہ مجھے مخاطب کر کے فرمایا: الَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ يظلم یعنی بقدر دعوی کے ایمان میں کسی قسم کا ظلم نہ ہو۔خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری وفا، پورا صدق اور اخلاص کا معاملہ ہو اور اس کی شناخت کامل ہو تو وہ شخص اس آیت کا مصداق ہو سکتا ہے لیکن یہ ایسی بات ہے کہ جس کو سوائے خدا تعالیٰ) کے اور کوئی نہیں جان سکتا کہ آیا فلاں شخص میں پورا صدق و اخلاص ہے کہ نہیں۔بعض وقت ایک انسان کے حق میں موت ہی اچھی ہوتی ہے کہ خدا اسے اس ذریعہ سے آئندہ لغزش سے بچا لیتا ہے (جیسے بعض کافروں کے حق میں زندگی اس لیے بہتر ہوتی ہے که۔۔۔۔ان کو آئندہ ایمان نصیب ہو جاتا ہے۔ایسے ہی بعض مومن کے حق میں موت اس لیے بہتر ہوتی ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو کافر ہو جاتا ) کہ اس کا خاتمہ کفر پر نہ ہو۔البد رجلد ۳ نمبر ۲۲ ، ۲۳ مورخه ۸ تا ۶ ۱ جون ۱۹۰۴ ء صفحه ۳) میرے کسی کلام میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ ہر ایک شخص جو بیعت کرے وہ طاعون سے محفوظ رہے گا بلکہ یہ ذکر ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَبِكَ لَهُمُ الْآمِّنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ۔پس کامل