تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 142
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ سورۃ الانعام ثابت ہے کہ صرف ہمارے قومی ہماری انسانیت کی گل چلانے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ضرور ہمیں خارجی مہدوں اور معاونوں کی حاجت ہے مگر قانون قدرت ہمیں بتلا رہا ہے کہ وہ خارجی مد و معاون اگر چہ بلحاظ علت العلل ہونے کے خدائے تعالیٰ ہی ہے مگر اُس کا یہ انتظام ہر گز نہیں ہے کہ وہ بلا توسط ہمارے قومی اور اجسام پر اثر ڈالتا ہے بلکہ جہاں تک ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور جس قدر ہم اپنے فکر اور ذہن اور سوچ سے کام لیتے ہیں صریح اور صاف اور بدیہی طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر یک فیضان کیلئے ہم میں اور ہمارے خدا وند کریم میں علل متوسطہ ہیں جن کے توسط سے ہر یک قوت اپنی حاجت کے موافق فیضان پاتی ہے پس اسی دلیل سے ملائک اور جنات کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ خیر اور شر کے اکتساب میں صرف ہمارے ہی قومی کافی نہیں بلکہ خارجی ممدات اور معاونات کی ضرورت ہے جو خارق عادت اثر رکھتے ہوں مگر وہ میڈ اور معاون خدا تعالی براہ راست اور بلا توسط انہیں بلکہ بتوسط بعض اسباب ہے سوقانون قدرت کے ملاحظہ نے قطعی اور یقینی طور پر ہم پر کھول دیا کہ وہ مُمدات اور معاونات خارج میں اور موجود ہیں گو ان کی کنہ اور کیفیت ہم کو معلوم ہو یانہ مگر یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ نہ براہ راست خدا تعالیٰ ہے اور نہ ہماری ہی قو تیں اور ہمارے ہی ملکے ہیں بلکہ وہ ان دونوں قسموں سے الگ ایسی مخلوق چیزیں ہیں جو ایک مستقل وجود اپنا رکھتی ہیں اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الخیر رکھیں گے تو اسی کو ہم روح القدس یا جبرائیل کہیں گے اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الشر رکھیں گے تو اسی کو ہم شیطان اور ابلیس کے نام سے بھی موسوم کریں گے۔یہ تو ضرور نہیں کہ ہم روح القدس یا شیطان ہر یک تاریک دل کو دکھلا دیں اگر چہ عارف ان کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور کشفی مشاہدات سے وہ دونوں نظر بھی آجاتی ہیں مگر محجوب کیلئے جو ابھی نہ شیطان کو دیکھ سکتا ہے نہ روح القدس کو یہ ثبوت کافی ہے کیونکہ متاثر کے وجود سے موثر کا وجود ثابت ہوتا ہے اور اگر یہ قاعدہ صحیح نہیں ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی کیوں کر پتہ لگ سکتا ہے؟ کیا کوئی دکھلا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے؟ صرف متأثرات کی طرف دیکھ کر جو اس کی قدرت کے نمونے ہیں اس موثر حقیقی کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔ہاں ! عارف اپنے انتہائی مقام پر روحانی آنکھوں سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی باتوں کو بھی سنتے ہیں مگر مجوب کیلئے بجز اس کے اور استدلال کا طریق کیا ہے کہ متاثرات کو دیکھ کر اس موثر حقیقی کے وجود پر ایمان لاوے سواسی طریق سے روح القدس اور شیاطین کا وجود ثابت ہوتا ہے اور نہ صرف ثابت ہوتا ہے بلکہ نہایت صفائی سے نظر آ جاتا ہے افسوس ان لوگوں کی حالت پر جو فلسفہ باطلہ کی