تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 141

۱۴۱ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانعام کرنے کیلئے رُوح القدس کو اس رحیم و کریم نے دائمی قرین انسان کا مقرر کر دیا ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ بقا اور لقا کی حالت میں اثر شیطان کا کالعدم ہو جاتا ہے گویا وہ اسلام قبول کر لیتا ہے اور وہ روح القدس کا نور انتہائی درجہ پر چمک اٹھتا ہے تو اُس وقت اس پاک اور اعلیٰ درجہ کی تعلیم پر کون اعتراض کر سکتا ہے بجز اس نادان اور اندھے کے کہ جو صرف حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتا ہے اور پاک تعلیم کے نور سے کچھ بھی حصہ نہیں رکھتا بلکہ سچ اور واقعی امر تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم بھی منجملہ معجزات کے ایک معجزہ ہے کیونکہ جس خوبی اور اعتدال اور حکیمانہ شان سے اس تعلیم نے اس عقدہ کو حل کر دیا کہ کیوں انسان میں نہایت قوی جذبات خیر یا شر کے پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ عالم رویا میں بھی ان کے انوار یا ظلمتیں صاف اور صریح طور پر محسوس ہوتی ہیں۔اس طرز محکم اور حقانی سے کسی اور کتاب نے بیان نہیں کیا اور زیادہ تر اعجاز کی صورت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ بجز اس طریق کے ماننے کے اور کوئی بھی طریق بن نہیں پڑتا اور اس قدر اعتراض وارد ہوتے ہیں کہ ہر گز ممکن نہیں کہ ان سے مخلصی حاصل ہو کیونکہ خدا تعالی کا عام قانون قدرت ہم پر ثابت کر رہا ہے کہ جس قدر ہمارے نفوس و قوی و اجسام کو اس ذات مبد فیض سے فائدہ پہنچتا ہے وہ بعض اور چیزوں کے توسط سے پہنچتا ہے مثلاً اگر چہ ہماری آنکھوں کو وہی روشنی بخشتا ہے مگر وہ روشنی آفتاب کے توسط سے ہم کوملتی ہے اور ایسا ہی رات کی ظلمت جو ہمارے نفوس کو آرام پہنچاتی ہے اور ہم نفس کے حقوق اس میں ادا کر لیتے ہیں وہ بھی درحقیقت اسی کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ در حقیقت ہر یک پیدا شوندہ کی علت العلل وہی ہے۔پھر جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک بندھا ہوا قانون قدیم سے ہمارے افاضہ کے لئے چلا آتا ہے کہ ہم کسی دوسرے کے توسط سے ہر یک فیض خدا تعالیٰ کا پاتے ہیں۔ہاں! اس فیض کے قبول کرنے کیلئے اپنے اندر قومی بھی رکھتے ہیں جیسے ہماری آنکھ روشنی کے قبول کرنے کیلئے ایک قسم کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اور ہمارے کان بھی ان اصوات کے قبول کرنے کیلئے جو ہوا پہنچاتی ہے ایک قسم کی جس اپنے اعصاب میں موجود رکھتے ہیں لیکن یہ تو نہیں کہ ہمارے قومی ایسے مستقل اور کامل طور پر اپنی بناوٹ رکھتے ہیں کہ ان کو خارجی معینات اور معاونات کی کچھ بھی ضرورت اور حاجت نہیں ہم کبھی نہیں دیکھتے کہ کوئی ہماری جسمانی قوت صرف اپنے ملکہ موجودہ سے کام چلا سکے اور خارجی ممد و معاون کی محتاج نہ ہو۔مثلاً اگر چہ ہماری آنکھیں کیسی ہی تیز بین ہوں مگر پھر بھی ہم آفتاب کی روشنی کے محتاج ہیں اور ہمارے کان کیسے ہی شنوا ہوں مگر پھر بھی ہم اس ہوا کے حاجت مند ہیں جو آواز کو اپنے اندر لپیٹ کر ہمارے کانوں تک پہنچا دیتی ہے اس سے