تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 140
۱۴۰ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرو اور ان کی تعظیم کرو اور اسی جگہ مکرمہ سے یہ حدیث لکھی ہے کہ ملائکہ ہر یک شر سے بچانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور جب تقدیر مبرم نازل ہو تو الگ ہو جاتے ہیں اور پھر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ کوئی ایسا انسان نہیں جس کی حفاظت کیلئے دائمی طور پر ایک فرشتہ مقرر نہ ہو۔پھر ایک اور حدیث عثمان بن عفان سے لکھی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ میں فرشتے مختلف خدمات کے بجالانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور دن کو ابلیس اور رات کو ابلیس کے بچے ضرر رسانی کی غرض سے ہر دم گھات میں لگے رہتے ہیں اور پھر امام احمد رحمتہ اللہ علیہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل لکھی ہے: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْن عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُجُلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِ وَ قَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَ إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ وَ إِيَّايَ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرِ انفرد باخراجه مسلم صفحه ۲۴۴ یعنی بتوسط اسود وغیرہ عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے ایسا نہیں کہ جس کے ساتھ ایک قرین جن کی نوع میں سے اور ایک قرین فرشتوں میں سے موگل نہ ہو۔صحابی نے عرض کی کہ کیا آپ بھی یا رسول اللہ صلعم ؟ فرمایا کہ ہاں! میں بھی۔پر خدا نے میرے جن کو میرے تابع کر دیا۔سو وہ بجز خیر اور نیکی کے اور کچھ بھی مجھے نہیں کہتا۔اس کے اخراج میں مسلم منفرد ہے اس حدیث سے صاف اور کھلے طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جیسے ایک داعی شر انسان کیلئے مقرر ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے ایسا ہی ایک داعی خیر بھی ہر ایک بشر کے لئے موکل ہے جو بھی اس سے جدا نہیں ہوتا اور ہمیشہ اس کا قرین اور رفیق ہے اگر خدا تعالیٰ فقط ایک داعی الی الشر ہی انسان کے لئے مقرر کرتا اور داعی الی الخیر مقرر نہ کرتا تو خدا تعالی کے عدل اور رحم پر دھبہ لگتا کہ اس نے شر انگیزی اور وسوسہ اندازی کی غرض سے ایسے ضعیف اور کمزور انسان کو فتنہ میں ڈالنے کیلئے کہ جو پہلے ہی نفس امارہ ساتھ رکھتا ہے شیطان کو ہمیشہ کا قرین اور رفیق اس کا ٹھہرا دیا جو اس کے خون میں بھی سرایت کر جاتا ہے اور دل میں داخل ہو کر ظلمت کی نجاست اس میں چھوڑ دیتا ہے مگر نیکی کی طرف بلانے والا کوئی ایسار فیق مقرر نہ کیا تا وہ بھی دل میں داخل ہوتا اور خون میں سرایت کرتا اور تا میزان کے دونوں پلے برابر رہتے مگر اب جب کہ قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ جیسے بدی کی دعوت کیلئے خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کا قرین شیطان کو مقرر کر رکھا ہے ایسا ہی دوسری طرف نیکی کی دعوت