تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 139

۱۳۹ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الْمَجَازِي، وَإِشَارَةً إِلى أَنَّ مَعْلى لفظ التَّوَقِّی کے حقیقی معنے موت ہیں نہ کچھ اور۔اسی لیے اللہ تعالیٰ حَقِيقَةٌ هُوَ الْمَوْتُ لَا غَيْرُهُ۔وَكَذَلِكَ أَقَامَ نے اس آیت میں ثُمَّ يَبْعَكُم اور ائیل کا قرینہ قَرِيْنَةً قَوْلِهِ ثُمَّ يَبْعَدُكُمْ وَقَرِيْنَةَ اللَّيْلِ فِی بھی ساتھ لگایا ہے یعنی هُوَ الَّذِي يَتَوَفكُمْ بِاليْلِ ايَةٍ أُخْرى۔أَعْنِي ايَةً وَ هُوَ الَّذِى يَتَوَفكُمْ الخ کی آیت میں اور یہ قرائن اس لیے قائم کیے تا یہ بِاليْلِ۔۔الخ، تَنْبِيْها عَلَى أَنَّ لَفَظَ التَّوَفِّي هُهُنَا بتایا جائے کہ اس جگہ توفی کے لفظ کے معنے سلانے لَيْسَ عَلَى الْإِنامَةِ بَلِ الْمَقْصُودُ الْإِمَاتَةُ کے نہیں۔بلکہ اس سے مراد امانت اور امانت کے وَالْبَعْثُ بَعْدَ الْإِمَاتَةِ لِيَكُونَ دَلِيْلًا عَلَى بَعْيِكِ بعد بحث ہے تا کہ یہ بات بعث یوم الدین کے لیے w دلیل ہو۔يَوْمِ الدِّينِ فَلِأُجْلِ ذَلِكَ ذَكَرَ بَعْكَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ بَعْدَ اسی لیے اس آیت کے بعد بعث یوم القیامۃ کا هذِهِ الْآيَةِ وَقَالَ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ لِيَجْعَل خدا تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اور فرما یا ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ هذَا الْمَوْتَ الْمَجَازِى وَالْبَعْتَ الْمَجَازِ (پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر آؤ گے ) تا یہ مجازی دَلِيْلًا عَلَى الْمَوْتِ الْحَقِيقِي وَالْبَعْثِ الْحَقِيقِي موت اور مجازی بعث حقیقی موت اور حقیقی بعث (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۳۶۱، ۳۶۲) | پر دلیل ہو۔( ترجمہ از مرتب ) وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ۔تم پر حفاظت کرنے والے مقرر ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھیجتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کی ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں۔اس مقام میں صاحب معالم نے یہ حدیث لکھی ہے کہ ہر ایک بندہ کیلئے ایک فرشتہ موکل ہے جو اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔اور اس کی نیند اور بیداری میں شیاطین اور دوسری بلاؤں سے اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور اسی مضمون کی ایک اور حدیث کعب الاحبار سے بیان کی ہے اور ابن جریر اس آیت کی تائید میں یہ حدیث لکھتا ہے نان مَعَكُمْ مَّنْ لَّا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِندَ الْخَلَاءِ وَعِنْدَ الْجِمَاعِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَ اكْرِمُوْهُمْ - یعنی تمہارے ساتھ وہ فرشتے ہیں کہ بجز جماع اور پاخانہ کی حاجت کے تم سے جدا نہیں ہوتے۔سو تم ان سے شرم