تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 138
۱۳۸ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر کسی کا یہ ارادہ ہو کہ بلا استصواب کتاب اللہ اس کا حرکت و سکون نہ ہو گا اور اپنی ہر ایک بات پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا تو یقینی امر ہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی جیسے فرمایا : لا رطب وَلَا يَا بس الا في كتب مبين سوا اگر ہم یہ ارادہ کریں کہ ہم مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے تو ہم کو ضرور مشورہ ملے گا۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۵) وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفيكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) قَالَ بَعْضُ الْمُسْتَعْجِلين إن لفظ " التَّوَلّي" بعض جلد باز کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ قرآن کریم إِنَّ قَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ مَعْنَى الْإِنامَةِ أَيْضًا كَمَا میں نیند کے معنے میں بھی آیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے قَالَ اللهُ تَعَالَى اللهُ يَتَوَلَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ فرمایا ہے: اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِي مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتُ فِي مَنَامِهَا، وَكَمَا قَالَ لَمْ تَمُتُ في منامها اور جیسے کہ فرمایا: وَ هُوَ الَّذِى ثُمَّ الله تعالى وَهُوَ الَّذِى يَتَوَقْكُم بِاليْلِ وَيَعْلَمُ يَتَوَقُكُمْ بِاليْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثم فیلم مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَى يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْطَى أَجَلٌ مُّسَمًّى پس واضح مستر أَجَلٌ مُّسَمًّى فَاعْلَمْ أَنَّ اللهَ تَعَالَى مَا أَرَادَ في رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں توفّی کے لفظ هذِهِ الْآيَاتِ مِنْ لَفْظِ التَّوَفِّي إِلَّا الْإِمَانَةَ سے موت اور قبض روح کے علاوہ اور کوئی مفہوم وَقَبْضَ الرُّوحِ، فَلِأَجْلِ ذَلِكَ أَقَامَ الْقَرَآئِن مراد نہیں لیا اور اسی مفہوم کی تعیین کے لیے اللہ تعالیٰ وَقَالَ وَالَّتِي لَمْ تَمَّتْ فِي مَنَامِهَا ، يَعْنِي وَالَّتِى نے قرائن قائم کیے ہیں چنانچہ فرمایا : وَالَّتِی لَم لَمْ ثَمَتُ مَوْتٍ حَقِيقِي يَتَوَفَّاهُ اللهُ في مَنَامِهَا تَمُتُ في منامها یعنی وہ جان جو حقیقی موت نہیں يمَوْتٍ فَجَازِي فَانْظُرْ كَيْفَ أَشَارَ فِي هَذِهِ مرتی اسے اللہ تعالی نیند میں موت مجازی دے کر الْآيَةِ إِلى أَنّ قَبْضَ الرُّوحِ فِي النَّوْمِ مَوْتُ اس کی توفی کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے توقی کا مَجَازِيُّ فَذَكَرَ لَفَظَ التَّوَفِّي هُهُنَا بِإِقَامَةِ ذكر منام کے قرینے سے کیا تا یہ بتایا جائے کہ قَرِينَةِ الْمَنَامِ تَنْبِيْبًا عَلى أَنَّ لَفَظَ التَّوَفِّي یہاں توفی کے معنی حقیقی معنوں سے مجازی معنی کی هُهُنَا قَدْ نُقِلَ مِنَ الْمَعْنَى الْحَقِيقِي إِلَى الْمَعْنَى طرف منتقل کیے گئے ہیں اور یہ اشارہ ہے کہ توفی : ( الزمر : ۴۳)