تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xvii of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xvii

صفحه ۱۹۱ ۱۹۱ ۱۹۱ ۱۹۴ ۱۹۶ ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۳ ۲۰۳ xvi مضمون انسان ہر ایک قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا ر ہے آج کل آدم کی دعا پڑھنی چاہیے رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا الخ خدا اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گانہ تلوار سے تمہارے قرار کی جگہ زمین ہی رہے گی پھر کیوں کر ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی قرارگاه صد ہا برس سے آسمان ہو حضرت مسیح بر طبق آیت فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں لفظ فيها جو تحيون پر مقدم ہے زمین پر ہی حیات کی تخصیص کرتا اور انسانی زندگی کوزمین پر مقدم کرتا ہے فتوی کی دو قسم ہیں ایک علم کے متعلق اور دوسرا عمل کے متعلق اعمال کے لیے اخلاص شرط ہے جیسا کہ فرما یا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ سوال کا جواب کہ نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہیے كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا کے حکم کی حکمت کلوا ایک امر ہے جب مومن اس کو امر سمجھ کر بجالا وے تو اس کا ثواب ہوگا۔ خدا نے ظاہری اور اندرونی گناہ دونوں حرام کر دیئے ۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ عمدہ تعلیم بھی انجیل میں موجود نہیں رشمار الله ۱۱۳ ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ ۱۱۷ ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱