تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 129
۱۲۹ سورۃ الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مواعید کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے؟ کیا ان کے پاس حدیث یا قرآن شریف سے کوئی نظیر موجود ہے کہ ایک ایسے خبیث طبع مفتری کو خدا تعالیٰ نہ پکڑے جو اس پر افتراء پر افتراء باندھے اور جھوٹے الہام بنا کر اپنے تئیں خدا کا نہایت ہی پیارا ظاہر کرے اور محض اپنے دل سے شیطانی با تیں تراش کر اس کو عمد أخدا کی وحی قرار د یوے اور کہے کہ خدا کا حکم ہے کہ لوگ میری پیروی کریں اور کہے کہ خدا مجھے اپنے الہام میں فرماتا ہے کہ تو اس زمانہ میں تمام مومنوں کا سردار ہے حالانکہ اس کو کبھی الہام نہ ہوا ہو اور نہ کبھی خدا نے اس کو مومنوں کا سردار ٹھہرایا ہو اور کہے کہ مجھے خدا مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو ہی مسیح موعود ہے جس کو میں کسر صلیب کے لیے بھیجتا ہوں حالانکہ خدا نے کوئی ایسا حکم اس کو نہیں دیا اور نہ اس کا نام عیسی رکھا اور کہے کہ خدائے تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ مجھ سے تو ایسا ہے جیسا کہ میری توحید۔تیرا مقام قرب مجھے سے وہ ہے جس سے لوگ بے خبر ہیں حالانکہ خدا اس کو مفتری جانتا ہے اس پر لعنت بھیجتا ہے اور مردودوں اور مخذولوں کے ساتھ اس کا حصہ قرار دیتا ہے۔پھر کیا یہی خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بیباک مفتری کو جلد نہ پکڑے یہاں تک کہ اس افتراء پر بیس برس سے زیادہ عرصہ گذر جائے۔کون اس کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے، اس لمبے عرصہ تک اس جھوٹے کو چھوڑ دے جس کی نظیر دنیا کے صفحہ میں مل ہی نہیں سکتی۔اللہ جلتا نہ فرماتا ہے: وَمَنْ أَظْلَمُ مِنَنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا یعنی اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔بیشک مفتری خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔سو ایک تقوی شعار آدمی کے لیے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور میرے باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتداء دعویٰ پر بیس برس سے بھی زیادہ عرصہ گذر گیا، بہت سے میرے دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے اور مجھے اس نے عمر دراز بخشی اور ہر یک مشکل میں میر امتکفل اور متولی رہا پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں؟ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۵۸۳ تا ۵۸۵) وَمِنْهُمْ فَمَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ رَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي