تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 127

۱۲۷ سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہاں تک جرأت اور دلیری ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھی افترا کر لیتا اور خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور ماموروں کی تکذیب بھی کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اظلم ٹھہرتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے : من أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاتِه یعنی اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ اور افتر ابا ند ھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔یقیناً یاد رکھو کہ یہ جھوٹ بہت ہی بری بلا ہے۔انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اس سے بڑھ کر جھوٹ کا خطر ناک نتیجہ کیا ہو گا کہ انسان خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور اس کی آیات کی تکذیب کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲) دیکھو افتراء کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مفتری ہمیشہ خائب و خاسر رہتا ہے۔وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى (طه : ۶۲ ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ اگر تو افتر ا کرے تو تیری رگ جان ہم کاٹ ڈالیں گے اور ایسا ہی فرمایا : مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام : ۲۲) ایک شخص ان باتوں پر ایمان رکھ کر افتراء کی جرات کیوں کر کر سکتا ہے۔ظاہری گورنمنٹ میں ایک شخص اگر فرضی چپڑاسی بن جائے تو اس کو سزا دی جاتی ہے اور وہ جیل میں بھیجا جاتا ہے تو کیا خدا تعالیٰ ہی کی مقتدر حکومت میں یہ اندھیر ہے کہ کوئی شخص جھوٹا دعوی مامور من اللہ ہونے کا کرے اور پکڑا نہ جائے بلکہ اس کی تائید کی جائے ؟ اس طرح تو دہریت پھیلتی ہے۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں میں لکھا ہے کہ مفتری ہلاک کیا جاتا ہے۔پھر کون نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ ۲۵ سال سے قائم ہے اور لاکھوں آدمی اس میں داخل ہور ہے ہیں۔یہ باتیں معمولی نہیں بلکہ غور کرنے کے قابل ہیں محض ذاتی خیالات بطور دلیل مانے نہیں جاسکتے۔ایک ہند و جو گنگا میں غوطہ مار کر نکلتا ہے اور کہتا ہے کہ میں پاک ہو گیا بلا دلیل اس کو کون مانے گا ؟ بلکہ اس سے دلیل مانگے گا۔پس میں نہیں کہتا کہ بلا دلیل میرا دعویٰ مان لو نہیں ! منہاج نبوت کے لئے جو معیار ہے اس پر میرے دعوی کو دیکھو۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں خدا سے وحی پاتا ہوں اور منہاج نبوت کے تینوں معیار میرے ساتھ ہیں اور میرے انکار کے لیے کوئی دلیل نہیں۔البدرجلد ۳ نمبر ۲۰، ۲۱ مورخه ۲۴ مئی و یکم جون ۱۹۰۴ صفحه ۵) پس خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں دوسرا پہلو اختیار کروں جو اصل بنیاد میرے دعوی کی ہے یعنی اپنے سچے ملہم ہونے کا ثبوت کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف سے