تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 126
سورة الانعام تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام گیا ہے وہ کیوں کر بچ سکتا ہے کیا خدا کا صادقوں اور کا ذبوں سے معاملہ ایک ہو سکتا ہے اور کیا افترا کرنے والوں کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں۔مالکمْ كَيْفَ تَحْلُمُونَ (الصفت : ۱۵۵) (اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۳، ۴۳۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے: فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ پایته - یعنی بڑے کا فرد وہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افترا کیا ہے اس صورت میں نہ میں صرف کا فر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۳) ظالم سے مراد اس جگہ کا فر ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ مفتری کے مقابل پر مکذب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایا ہے اور بلاشبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کا فرٹھہراتا ہے اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۷ حاشیه ) اس سے ظالم ترکون ہے کہ خدا پر افتر ا کرے یا خدا کے کلام کی تکذیب کرے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۷۹) جو شخص دلائل اور نشانات کو دیکھتا ہے اور پھر دیانت، امانت اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِأَيْتِهِ - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۹ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) وہ شخص جو رات کو ایک بات بنا تا اور دن کو لوگوں کو بتاتا اور کہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیوں کر احکام جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۱۳) با مراد اور با برگ و بار ہو سکتا ہے۔اس شخص سے ظالم ترکون ہے جو خدا پر افتر اکرے یا خدا کی آیتوں اور نشانوں کا مکذب ہو۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۶۷۷) کذب اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر اسے ایک دیمک لگ جاتی ہے۔ایک جھوٹ کے لیے پھر اسے بہت سے جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں کیونکہ اس جھوٹ کو سچائی کا رنگ دینا ہوتا ہے۔پس اسی طرح اندر ہی اندر اس کے اخلاقی اور روحانی قوی زائل ہو جاتے ہیں اور پھر اسے