تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xvi of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xvi

صفحه ۱۷۸ ۱۷۹ ۱۷۹ ۱۸۰ ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۵ ۱۸۷ ۱۸۸ ۱۸۹ ۱۹۰ XV مضمون إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا مصداق ہو تب مسلمان کہلائے گا نسک میں قربانی سے مراد روح کی قربانی ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي الخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب تام کی ایک بڑی دلیل ہے آیت اور حدیث میں باہم تعارض واقع ہونے کی حالت میں مفسرین و محدیث کا اصول لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْری میں یسوع کے کفارہ کی تردید گناہ کا علاج تین طور سے ۱۔ محبت ۲۔ استغفار ۳۔ توبہ قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنا نا سخت غلطی ہے اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُم اول تو جہ قرآن کی طرف ہونی چاہیے پھر اگر اس توجہ کے بعد کسی حدیث یا قول من دونہ میں داخل دیکھے تو اس سے منہ پھیر لیوے تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے اجیج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں اور شیطان کے وجود کی بناوٹ بھی آگ سے ہے۔ اس لیے قوم یا جوج ماجوج سے اس کو ایک فطرتی مناسبت ہے قرآن شریف اس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قراردیتا ہے رشمار ۱۰۰ ۱۰۱ ۱۰۲ ۱۰۳ اولد ۱۰۵ ١٠٦ ۱۰۷ ۱۰۸ ۱۰۹ ۱۱۰