تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xv of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xv

صفحه ۱۵۹ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۹ ۱۷۰ ۱۷۳ ۱۷۵ ۱۷۶ xiv مضمون خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۔ لفظ کل کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لیے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کر دیا ہے خدا کی کنہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے ۔ اسلم طریق یہی ہے کہ انسان لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ پر ایمان رکھے نبی کبھی یہ نہیں کہے گا کہ جو نشان مجھ سے مانگو دکھانے کو طیار ہوں اس کے منہ سے یہی نکلے گا إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُسْتَرِينَ کے مخاطب آنحضرت نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جو و ہنوز یقین اور ایمان سے کم حصہ رکھتے ہیں اس سوال کا جواب کہ کیا کسی غریب سید کوز کوۃ دی جاسکتی ہے صاحب الہام ہونے میں استعداد اور قابلیت شرط ہے یہ بات نہیں کہ ہر کس و ناکس خدائے تعالیٰ کا پیغمبر بن جائے جھوٹے مذہب اور سچے مذہب میں امتیاز کرنے کا طریق عیسائی نامہ نگاروں کا بیان کہ اگر انبیاء کی نسبت جرم کا لفظ نہیں آیا تو یہود کی نسبت بھی نہیں آیا کا جواب قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي الخ میں ان کا رد ہے جو یہ اعتقادر کے کارڈ رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع کی رہائی کے لیے جان کو وقف کر دیا نسك كے معنے ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ १५ ۹۷ ۹۸ ۹۹