تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 101
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۱ سورة المائدة استعمال کیا۔ اوّل سے آخر تک قرآن شریف میں کسی جگہ لفظ توفی کا ایسا نہیں جس کے بحجر قبض روح اور مارنے کے اور معنے ہوں اور پھر ثبوت پر ثبوت یہ کہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے متوفيك كے معنے هميتك پر یہ کہ لکھے ہیں ۔ ایسا ہی تفسیر فوز الکبیر میں بھی یہی معنے مندرج ہیں اور کتاب عینی تفسیر بخاری میں اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔ اب اس نص قطعی سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ضرور مر چکے ہیں اور احادیث میں جہاں کہیں توفی کا لفظ کسی صیغہ میں آیا ہے اس کے معنے مارنا ہی آیا ہے جیسا کہ محدثین پر پوشیدہ نہیں اور علم لغت میں یہ سلم اور مقبول اور متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول بہ ہے وہاں بجز مارنے کے اور کوئی معنے توفی کے نہیں آتے۔ تمام دواوین عرب اس پر گواہ ہیں ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۰) ہمارے علماء کا یہ خیال ہے کہ وہی مسیح عیسی ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی تھی آخری زمانہ میں آسمان پر سے نازل ہو گا لیکن ظاہر ہے کہ قرآن شریف اس خیال کے مخالف ہے اور آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۔۔۔۔ اور دوسری تمام آیتیں جن کا ہم اپنی کتابوں میں ذکر کر چکے ہیں اس امر پر قطعیۃ الدلالت ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ان کی موت کا انکار قرآن سے انکار ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۹۵) قرآن شریف جو خدا کا کلام ہے اس کے نصوص صریحہ سے تو حضرت مسیح کی موت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ خدا نے صاف لفظوں میں فرمادیا کہ وہ وفات پاچکا جیسا کہ آیت فلما توفیتَنِی اس پر شاہد ہے۔ آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ توفی کے معنے بحر قبض روح کے اور کچھ نہیں ۔ ( اربعین ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۷۳، ۳۷۴) جیسا کہ لغت میں توفی کے معنے جہاں خدا فاعل اور انسان مفعول یہ ہو بجز مارنے کے اور کچھ نہیں ایسا ہی قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک توفی کا لفظ صرف مارنے اور قبض روح پر ہی استعمال ہوا ہے۔ بجز اس کے سارے قرآن میں اور کوئی معنے نہیں ۔ اربعین، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۳۷۴ حاشیہ ) یہ آیت تو صاف دلالت کرتی ہے کہ وہ عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے مر چکے ہیں غرض اگر آیت فلما توفیتنی کے یہ معنی ہیں کہ مع جسم زندہ عیسی کو آسمان پر اٹھا لیا تو کیوں خدا نے ایسے شخص کی موت کا سارے قرآن میں ذکر نہیں کیا جس کی زندگی کے خیال نے لاکھوں کو ہلاک کر دیا گو یا خدا نے اس کو ہمیشہ کے لئے اس لئے زندہ رہنے دیا کہ تا لوگ مشرک اور بے دین ہو جائیں اور گویا یہ لوگوں کی غلطی نہیں بلکہ خدا نے یہ سب کچھ خود کیا تا لوگوں کو گمراہ کرے۔ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۶، ۱۷)