تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 97

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۷ سورة المائدة کہ توفی مارنے کو کہتے ہیں۔یہ قول ابن عباس ہے جس کو حدیث كما قَالَ الْعَبْدُ الصَّالح کے ساتھ بخاری میں اور بھی تقویت دی گئی ہے اور شارح عینی نے اس قول کا اسناد بیان کیا ہے۔اب ایک تسلی ڈھونڈنے والا سمجھ سکتا ہے کہ قرآن شریف اور اس کتاب میں جو اصح الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ ہے صاف گواہی دی گئی ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور اس شہادت میں صرف امام بخاری رضی اللہ عنہ متفرد نہیں بلکہ امام ابن حزم اور امام مالک رضی اللہ عنہما بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا اُمت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اُس کا ذکر ہوتا۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۶۹) یہ جو کہا جاتا ہے کہ اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى ابْرَاهِيمَ تو اس سے ہر گز نہیں سمجھا جاتا کہ مفہوم صلوٰۃ کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ غیر اس مفہوم کا ہے جو حضرت ابراہیم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے۔ایسا خیال کرنا تو سراسر حماقت ہے۔پس اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ آیت فلما توفيتَنِي کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے آنجناب کی وفات مراد لی جائے اور پھر جب حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف اسی آیت کو منسوب کریں تو اُن کی حیات مُراد لی جائے تو یہ تشبیہ کیوں کر ٹھہری ؟ یہ دونوں امرتو ایک دوسرے کے ضد واقع ہیں۔اس سے زیادہ اور کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ تشبیہ میں مخالفت اور منافات تلاش کی جائے ؟ ہاں ! جس فرق کا مشبہ، مشبہ بہ میں باوجود اشتراک امر مشابہت کے ہونا ضروری ہے۔اس جگہ وہ فرق اس طرح پر ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اس بات کا جواب دینا تھا کہ اُن کے مرنے کے بعد اُن کی پرستش ہوئی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جواب دینا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بعض لوگ اسلام کی سنتوں اور راہوں پر قائم نہ رہے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔اس اختلاف سے جو دو امتوں کی ضلالت میں پایا جاتا ہے مشبّہ اور مشبہ بہ کا فرق ظاہر ہو گیا اور یہی ہونا چاہیئے تھا نہ یہ کہ مشبہ اور مشبہ بہ ایک دوسرے کے نقیض ہوں جیسے مردہ اور زندہ اور بُزدل اور شجاع۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۱۸،۳۱۷) خدا نے صریح لفظوں میں حضرت عیسی کی وفات کو قرآن کریم میں ظاہر فرما دیا ہے۔دیکھو کیسی یہ آیت یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي حضرت عیسی کی وفات پر نص صریح ہے اور اب اس آیت کے سننے کے بعد اگر کوئی حضرت عیسی کی وفات سے انکار کرتا ہے تو اُسے ماننا پڑتا ہے کہ عیسائی اپنے عقائد میں حق پر ہیں کیونکہ اس آیت کا