تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 96

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۶ سورة المائدة اور خدا تعالیٰ نے جو اس آیت میں تو ئی کو پہلے رکھا اور رفع کو بعد تو اسی واسطے یہ ترتیب اختیار کی کہ تا ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ وہ رفع ہے کہ جو راستبازوں کے لئے موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔ہمیں نہیں چاہیے کہ یہودیوں کی طرح تحریف کر کے یہ کہیں کہ دراصل توفّی کا لفظ بعد میں ہے اور رفع کا لفظ پہلے کیونکہ بغیر کسی محکم اور قطعی دلیل کے محض ظنون اور اوہام کی بنا پر قرآن کو الٹ پلٹ دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کی روحیں یہودیوں کی روحوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔پھر جس حالت میں آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی میں صاف طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا تمام بگاڑ اور گمراہی حضرت عیسی کی وفات کے بعد ہوئی ہے تو اب سوچنا چاہیے کہ حضرت عیسی کو اب تک زندہ ماننے میں یہ اقرار بھی کرنا پڑتا ہے کہ اب تک عیسائی بھی گمراہ نہیں ہوئے اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس سے ایمان جانے کا نہایت خطرہ ہے۔(کتاب البریہ ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۵،۲۴) میں جیسا کہ اور اختلافات میں فیصلہ کرنے کے لئے حکم ہوں ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی میں حکم ہوں اور میں امام مالک اور ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہل سنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں۔سو میں بحیثیت حکم ہونے کے ان جھگڑا کرنے والوں میں یہ حکم صادر کرتا ہوں کہ نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہل سنت کا سچا ہے کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا۔ہاں ! نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔نزول صفت بروزی تھانہ کہ حقیقی اور مسیح کی وفات کے مسئلہ میں معتزلہ اور امام مالک اور ابن حزم وغیرہ ہم کلام ان کے بچے ہیں کیونکہ بموجب نص صریح آیت کریمہ یعنی آیت فَلَنَا تَوَفیتَنِی کے مسیح کا عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے وفات پانا ضروری تھا۔یہ میری طرف سے بطور حکم کے فیصلہ ہے۔اب جو شخص میرے فیصلہ کو قبول نہیں کرتا وہ اس کو قبول نہیں کرتا جس نے مجھے حکم مقرر فرمایا ہے۔(ضرورت الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۹۶،۴۹۵) آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى نے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا۔اب اگر حضرت عیسی کو زندہ مان لیں اور کہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ نصاری نے بھی اب تک اپنے عقائد کو نہیں بگاڑا کیونکہ آیت موصوفہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصاریٰ کے عقیدوں کا بگڑنا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوگا۔رہی یہ بات کہ توفی کے اس جگہ کیا معنے ہیں؟ اس کا فیصلہ نہایت صفائی سے صحیح بخاری میں ہو گیا ہے