تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 94

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۴ سورة المائدة وَالصَّرْفُ هُهُنَا كَالْقَاضِي ثُمَّ إِنْ كُنْتَ لا قاضی کی طرح ہے۔ پھر اگر تم حکم صرف پر راضی ترضى بحكم الصَّرْفِ وَتَجْعَلُ الْمَاضِي نہیں اور ماضی کو حرف تبدیل کر کے مستقبل بناتے اسْتِقْبَالًا بِتَبْدِيلِ الْحَرْفِ، فَهَذَا ظُلم ہو تو یہ تم سے اور اور تم جیسے دوسروں سے ظلم کا ارتکاب مِنْكَ وَمِنْ أَمْثَالِكَ، وَمَعَ ذَالِكَ لَا يُفِيدُكَ ہے مزید برآں تمہاری بحث کا غلو تجھے کچھ فائدہ نہ غُلُو جِدَالِكَ، وَتَكُونُ فِي هَذَا أَيْضًا مِنَ دے گا اور تو اس پہلو سے بھی کا ذبوں میں سے ہوگا۔ الْكَاذِبِينَ فَإِنَّ الْمَسِيحَ يَقُولُ فِي هَذِهِ بلا شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان آیات میں فرمار ہے الْآيَاتِ: إِنَّ قَوْمِي قَدْ ضَلُّوا بَعْدَ مَوْتِي لَا فِي ہیں کہ میری قوم زندگی میں نہیں بلکہ میری موت کے بعد الْحَيَاةِ، فَإِنْ كُنْتَ تَحْسَبُ عِيسَى حَيًّا إلى گمراہ ہوئی پس اگر تو عیسی علیہ السلام کو اب تک آسمان هُذَا الزَّمَانِ فِي السَّمَاءِ ، فَلَزِمَكَ أَنْ تُقِرَّ میں زندہ خیال کرتا ہے تو تیرے لئے یہ تسلیم کرنا بأَنَّ النَّصَارَى قَائِمُونَ عَلَى الْحَقِّ إِلى هذا لازم ہوگا کہ نصاری اس وقت تک حق پر قائم ہیں، الْعَصْرِ لَا مِنْ أَهْلِ الضَّلَالَةِ وَالْهَوَاء فَأَيْنَ گمراہ اور ہوس پرست نہیں ہیں ۔ پس اے مسکین ! تَذْهَبُ يَا مِسْكِينَ، وَقَدْ أَحَاطَتْ عَلَيْكَ کہاں پھر رہے ہو؟ تم پر براہین نے احاطہ کر رکھا ہے الْبَرَاهِينُ، وَظَهَرَ الْحَقِّ وَأَنْتَ تَكْتُمُهُ اور حق ظاہر ہو چکا جبکہ تو اسے تجاہل عارفانہ برتنے كَالْمُتَجَاهِلِينَ والوں کی طرح چھپا رہا ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۱۳۵، ۱۳۶ ) قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ مسیح وفات پا کر آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ لہذا اس کا نزول بروزی ہے نہ کہ حقیقی اور آیت فَلَمَّا توفیتنی میں صریح ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام وقوع میں آگیا کیونکہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑیں گے نہ کہ ان کی زندگی میں ۔ پس اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے اور یہ صریح باطل ہے بلکہ آیت تو بتلاتی ہے کہ عیسائی صرف مسیح کی زندگی تک حق پر قائم رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کے عہد میں ہی خرابی شروع ہوگئی تھی ۔ اگر حواریوں کا زمانہ بھی ایسا ہوتا کہ اس زمانہ میں بھی عیسائی حق پر قائم ہوتے تو خدا تعالیٰ اس آیت میں صرف مسیح کی زندگی کی قید نہ لگا تا بلکہ حواریوں کی زندگی کی بھی قید لگا دیتا۔ پس اس جگہ سے ایک نہایت عمدہ نکتہ عیسائیت کے زمانہ فساد کا معلوم