تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 88
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٨٨ سورة المائدة عَلَيْهِم كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ مِنْ قَبْلِي ہی ان پر نگہبان تھا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسی نے مجھے يَعْنِى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ فَانظُرْ كَيْفَ سے پہلے عرض کی تھی۔دیکھو! آنحضرت نے مسیح کی أَشَارَ إِلى وَفَاةِ الْمَسِيحِ بِحَيْثُ اسْتَعْمَلَ وفات کی طرف کیا ہی عجیب اشارہ کیا ہے کہ اپنی ذات لِنَفْسِهِ جُمْلَةً فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كَمَا اسْتَعْمَلَهُ مبارکہ کے واسطے فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِی کا جملہ ایسا ہی استعمال الْمَسِيحُ لِنَفْسِهِ۔وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ الله فرمایا ہے جیسا کہ مسیح نے اپنے لیے استعمال کیا تھا اور تم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تُوُفِّى وَقَبْرُهُ جانتے ہو کہ آنحضرت تو وفات پاگئے ہیں اور آپ کی قبر الْمُبَارَكُ مَوْجُودٌ في الْمَدِينَةِ فَانكَشف مبارک مدینہ طیبہ میں موجود ہے پس جبکہ آنحضرت نے مَعْنَى التَّوَقِّي يُجَعَل رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مسیح کے واقعہ کو اپنے واقعہ سے مشابہ اور متحد کر دیا ہے تو وَسَلَّمَ وَاقِعَةَ الْمَسِيحَ وَوَاقِعَةً نَفْسِهِ وَاقِعَةُ اس سے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں توفی کے معنے بخوبی وَاحِدَةً وَظَهَرَ أَنَّ مَعْلَى النّوى في ايَةِ فَلَمَّا کھل گئے کہ بجز موت کے اور معنے نہیں اور جو معنی تَوَفَّيْتَنِي الْإِمَاتَةُ لَا غَيْرُهَا مِنَ الْمَعَانِي من گھڑت بنائے جاتے ہیں لغت عرب میں ان کی کوئی الْمَنْحُوْتَةِ الَّتِي لَا أَصْلَ لَهَا فِي لُغَةِ الْعَرَبِ اصل نہیں ہے ( پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا فَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ چکے ہیں) اور اگر جسم (سمیت) زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مَاتَ، وَلَوْ كَانَ مَعْنَاهُ الرَّفْعَ إلَى السَّمَاء حَیا اس کے معنی ہوتے تو اس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت مَّعَ الْجِسْمِ الْعُنْصُرِي كَمَا هُوَ زَعْمُ الْقَوْمِ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مع جسم عنصری زندہ آسمان پر اٹھائے لرُفِعَ إِذًا نَبِيُّنَا إِلَى السَّمَاءِ حَيًّا مَعَ الْجِسْمِ جاتے کیونکہ آپ نے اپنی ذات مبارکہ کو عیسی کے ساتھ الْعُنْصُرِي فَإِنَّهُ جَعَلَ نَفْسَهُ شَرِيكَ عِيْسى لفظ توفی میں شریک کیا ہے جو آیت فَلَما تولیتَنِی میں عَلَيْهِ السَّلَامُ في لفظ التَّوَفِّى الَّذِي يُوجَدُ في ہے جیسا کہ بخاری کی حدیث میں آیا ہے اور اگر ہم اپنی آيَةِ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كَمَا جَاءَ فِي حَدِيثِ طرف سے مسیح کے لیے آیت میں کوئی خاص معنی لے الْبُخَارِي وَلَوْ جَعَلْنَا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِنَا لیویں اور کہیں کہ آنحضرت کے حق میں توفی کے معنے لِلْمَسِيحِ مَعْنًى خَاصَّا في هذِهِ الْآيَةِ وَقُلْنَا وفات ہیں اور عیسی کے حق میں اس کے معنے جسم عنصری إنَّ التَّوَقِّى في حَق رَسُولِنَا هُوَ الْوَفَاةُ، وَلكِن کے ساتھ آسمان پر اُٹھایا جانا اس کے معنی ہوتے تو في حَقِ عِيسَى أُريد مِنْهُ الرَّفَعُ مَعَ الْجِسْمِ اس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم