تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 87
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة المائدة دَلَّتْ بِدَلَالَةٍ صَرِيحَةٍ وَاضِحَةٍ بَيِّنَةٍ عَلَى أَنَّ سے یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ نصاری کا گمراہ ہونا ضَلَالَةَ النَّصَارَى وَاتَّخَاذَهُمُ الْعَبْدَ إِلَها اور ایک بندہ کو خدا بنانا مسیح کی وفات سے مشروط ہے مَشْرُوطَةٌ بِوَفَاةِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَلَا اور اس سے وہی انکار کر سکتا ہے جو اپنی بے تمیزی يُنْكِرُهُ إِلَّا مَنْ عَانَدَ الْحَقِّ بِسُوءٍ تَميزہ سے حق کا دشمن اور مکابرہ کو استعمال میں لائے اور وَاسْتَعْمَلَ الْمُكَابَرَةَ وَالتَّحَكُمَ بِجَهْلِهِ وَحُمْقِه دیده و دانسته هدایت یاب ہونے سے انکار کرے وَأَبِي مُتَعَمِّدًا مِّنْ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُهْتَدِينَ اور جب ان کو کہا جاتا ہے جس طرح کہ خدا نے اپنی وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مِنُوا بِمَا صَرَّحَ اللهُ فِي كِتَابِهِ کتاب میں کھلے طور پر بیان کیا ہے کہ مسیح فوت مِنْ وَفَاةِ الْمَسِيحِ وَضَلَالَةِ النَّصَارَى بَعْدَ ہو گیا اور ان کی وفات کے بعد نصاری گمراہ ہوئے وَفَاتِهِ لَا فِي زَمَنِ حَيَاتِهِ، قَالُوا أَنُؤْمِنُ بِمَعَانِي نہ ان کی حسین حیات میں تم بھی مان لو تو کہتے ہیں کیا تُخَالِفُ الْأَحَادِيثَ وَقَدْ كَانُوا يُعَلِّمُونَ ہم ایسے معنی مان لیں جو احادیث کے مخالف ہیں النَّاسَ أَنَّ الْخَبْرَ الْوَاحِدَ يُرَدُّ بِمُعَارَضَةِ كِتَابِ اور حال یہ ہے کہ پہلے خود لوگوں کو پڑھایا کرتے اللهِ فَنَسُوا مَا ذَكَرُوا النَّاسَ وَانْقَلَبُوا إِلَى تھے کہ خبر واحد جب کتاب اللہ کے معارض ہو تو وہ الْجَهْلِ بَعْدَمَا كَانُوا عَالِمِينَ وَمَا تَجِدُ في خبر واحد رد کی جاتی ہے۔ جولوگوں کو سناتے تھے اب حَدِيثٍ ذِكْرَ رَفْعِ الْمَسِيحِ حَيًّا بِجِسْمِهِ خود بھول گئے اور عالم ہونے کے بعد جاہل ہو گئے الْعُنْصُرِي، بَلْ نَجِدُ ذِكْرَ وَفَاةِ الْمَسِيحِ فِي اور ہم کسی حدیث میں نہیں پاتے کہ صیح زندہ جسم الْبُخَارِي وَالطَّبْرَانِي وَغَيْرِهِمَا مِنْ كُتُبِ عصری آسمان پر اُٹھایا گیا بلکہ بخاری اور طبرانی الْحَدِيثِ، فَلْيَرْجِعُ إِلى تِلْكَ الْكُتُبِ مَنْ كَانَ وغیرہما میں ) مسیح کی موت ہی کا ذکر پاتے ہیں اور مِنَ الْمُرْتَابِينَ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۱۹۸ تا ۲۰۰) جس کو شک ہے ان کتابوں کا مطالعہ کرلے۔ ( ترجمه از مرتب ) وَكَذَلِكَ أَخْبَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اسی طرح ایک اور حدیث میں آنحضرت نے مسیح وَسَلَّمَ عَنْ مَوْتِ عِيسَی فِي حَدِيثٍ أَخَرَ کی وفات کی خبر دی ہے چنانچہ فرمایا کہ جب میرا خدا وَقَالَ إِذَا سَأَلَنِي رَبِّي عَنْ فَسَادِ أُمَّتِي فَأَقُولُ فِي میری امت کے فساد کی بابت مجھ سے دریافت فرمائے جَوَابِهِ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ گا تو میں عرض کروں گا کہ جب تو نے مجھے مار دیا تو پھر تو