تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 86
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام في الشَّهَادَةِ الأولى ۸۶ سورة المائدة آکر بھی ان پر گواہ ہوں گا اور صرف پہلی گواہی پر ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۳۲، ۴۳۳) حصر نہ کرتے۔(ترجمہ از مرتب) یادر ہے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ رسل کے لفظ کے ساتھ بھی مسیح موعود کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ سوال کہ ان ہی الفاظ کے ساتھ جو احادیث میں آئے ہیں کیوں قرآن میں ذکر نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تا پڑھنے والوں کو دھوکا نہ لگ جاوے کہ مسیح موعود سے مراد در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام ہی ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی تھی اور ایسا ہی دجال سے کوئی خاص مفسد مراد ہے،سوخدا تعالیٰ نے فرقان حمید میں ان تمام شبہات کو دور کر دیا۔اس طرح پر کہ اول نہایت تصریح اور توضیح سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی خبر دی جیسا کہ آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ سے ظاہر ہے اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی ظاہر کر دیا جیسا کہ فرمایا: وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللَّبِينَ (الاحزاب : ۴۱) اور پھر یہودیوں کی بہت سی نا فرمانیاں جابجاذ کر کر کے متواتر طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آخری حالت عام مسلمانوں اور مسلمانوں کے علماء کی یہی ہو جائے گی اور پھر ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں غلبہ نصاریٰ کا ہوگا اور ان کے ہاتھ سے طرح طرح کے فساد پھیلیں گے اور ہر طرف سے امواج فتن اٹھیں گی اور وہ ہر یک بلندی سے دوڑیں گی۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۱) إِنَّ اللهَ صَرَّحَ فِي الْقُرْآنِ الْعَظِيمِ بِأَنَّ خدائے تعالیٰ نے قرآن میں تصریح کر دی ہے الْمُتَنفِرِينَ مَا أَشْرَكُوا وَمَا ضَلُّوا إِلَّا بَعْدَ وَفَاةٍ که نصاری مسیح کی وفات کے بعد ہی مشرک بنے الْمَسِيحِ كَمَا يُفْهَمُ مِنْ آيَةٍ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى ہیں جیسا کہ اس آیت سے سمجھا جاتا ہے پس جبکہ تو كُنتَ أنتَ الرَّقِيْب عَلَيْهِمْ فَلَوْ لَمْ يُتَوَفَّ نے مجھے مار دیا تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا پس اگر الْمَسِيحُ إِلى هَذَا الزَّمَانِ لَلَزِمَ مِنْ هَذَا أَن مسیح نے اب تک وفات نہیں پائی تو لازم آئے گا يَكُونَ الْمُتَنَظِرُونَ عَلَى الْحَقِّ إِلى هَذَا الْوَقْتِ که نصاری اب تک حق پر ہیں اور مومن اور موحد وَيَكُونُوا مُؤْمِنِينَ مُوَحِدِينَ بھی ہیں۔يَا حَسْرَةً عَلَيْهِمُ : لِمَ لَا يَتَفَكَّرُونَ فِي هَذِهِ ان پر افسوس! یہ کیوں ان آیتوں میں فکر نہیں الْآيَاتِ أَلَيْسَ فِيهِمُ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ وَفَهِيْمُ کرتے کیا ان میں کوئی بھی رشید اور فہیم اور امین وَأَمِينٌ : وَأَنْتَ تَعْلَمُ إِنَّ ايَةً فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي قَدْ نہیں ہے اور تم بخوبی جانتے ہو کہ بڑی وضاحت