تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 85
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ سورة المائدة قرآن کریم میں موجود ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : وَ اِمَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نتوقيتك (الرعد: ۴۱ ) اگر ہمارے علماء اس جگہ بھی توفی کے معنے یہی لیتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں تو ہمیں ان پر کچھ بھی افسوس نہ ہوتا مگر ان کی بے باکی اور گستاخی تو دیکھو کہ توفی کا لفظ جہاں کہیں قرآن کریم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے تو اس کے معنے وفات کے لیتے ہیں اور پھر جب وہی لفظ حضرت مسیح کے حق میں آتا ہے تو اس کے معنے زندہ اٹھائے جانے کے بیان کرتے ہیں اور کوئی ان میں سے نہیں دیکھتا کہ لفظ تو ایک ہی ہے، اندھے کی طرح ایک دوسرے کی بات کو مانتے جاتے ہیں۔جس لفظ کو خدا تعالیٰ نے پچھیں " مرتبہ اپنی کتاب قرآن کریم میں بیان کر کے صاف طور پر کھول دیا کہ اس کے معنی روح کا قبض کرنا ہے نہ اور کچھ۔اب تک یہ لوگ اس لفظ کے معنی مسیح کے حق میں کچھ اور کے اور کر جاتے ہیں گویا تمام جہان کیلئے توفی کے معنے تو قبض روح ہی ہیں مگر حضرت ابن مریم کے لئے زندہ اٹھا لینا اس کے معنی ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۳) اَلَا يَرَوْنَ أَنَّ اللهَ أَخْبَرَ مِنْ وَفَاةِ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف الْمَسِيحِ فِي مَقَامَاتٍ شَتَّى وَ الْقُرْآنُ مقامات پر حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی خبر دی ہے اور كله مملو مِن ذَالِك وَ لا تَجِدُ فِيْه سارا قرآن کریم اس خبر سے بھرا پڑا ہے۔اے مخاطب ! تو مسیح لإِثْبَاتِ حَيَاتِهِ حَرْفًا أَوْ لَفْظًا وَنَهَاكَ کی حیات ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید میں ایک حرف یا قَوْلُ الْمَسِيح في الْقُرْآنِ وَكُنْتُ ایک لفظ بھی نہیں پائے گا اور تیرے لیے قرآن مجید میں عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمُ فَلَنَا حضرت مسیح کا یہ قول کافی ہے: وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ - دُمُتُ فِيهِمُ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ - فَانْظُرْ كَيْفَ يَعْبُتُ مِنْ هُنَا آن پس دیکھو کہ اس جگہ سے کیسے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ الْمَسِيحَ تُوُفِّيَ وَخَلَا وَ لَوْ كَانَ نُزُول مسیح وفات پاچکے ہیں اور گزر چکے ہیں کیونکہ اگر حضرت مسیح الْمَسِيحِ وَ فَجِيْنُهُ مُقَدَّدًا ثَانِيَا لَّذَكَرَ کا نزول اور آپ کا دوبارہ اس دنیا میں آنا مقدر ہوتا تو الْمَسِيحُ فِي قَوْلِهِ شَهَادَتَيْنِ وَ لَقَالَ مَعَ صحیح اپنے مذکورہ بالا قول میں دو شہادتوں کا ذکر کرتے اور قَوْلِهِ : كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا وَأَكُوْنُ اپنے قول كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّرَّةً أُخْرَى وَمَا حَصَرَ اكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّرَّةً أُخْرى یعنی میں دوبارہ ج