تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 76
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۶ سورة المائدة ہیں مگر صحابہ کرام کی نسبت نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو ان کے حالات معلوم تھے اور آپ ان میں رہتے تھے۔ اس قسم کی لا علمی سے وہی لا علمی مراد ہے یعنی اس امت کا ذکر جو کہ نبی کے بعد آیا کرتی ہے یا بہت آخری وقت پر آتی ہے کہ اسے نبی کی صحبت سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔ (البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ رنورمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲۱) إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرُ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدَتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا ۚ وَ إِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَيةَ وَالْإِنْجِيلَ وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَ تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ ۔ عصمت سے مراد یہ ہے ہے کہ بڑی آفتوں سے جو دشمنوں کا اصل مقصود تھا بچایا جاوے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت زخم پہنچے تھا اور یہ حاد ہ حادثہ وعدۂ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ اسی ر میں آیا تھا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا تھا: إِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَنْكَ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا حالانکہ تو اتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچادی پس یہی معنے اِذْ كَفَفْتُ کے ہیں جیسا کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸ ) کے ہیں ۔ نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۲۹) قَالُوا نُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَتَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ قرآن شریف کے ایک مقام پر غور کرتے کرتے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی بڑی عظمت اور کامیابی معلوم ہوئی جس کے مقابل میں حضرت مسیح بہت ہی کمزور ثابت ہوتے ہیں ۔ سورہ مائدہ میں ہے کہ نزول مائدہ کی درخواست جب حواریوں نے کی تو وہاں صاف لکھا ہے: قَالُوا نُرِيدُ اَنْ تَأْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَ