تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 72
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۲ سورة المائدة ام الخبائث ہے عیسائیوں میں حلال سمجھی جاتی ہے مگر ہماری شریعت میں اس کو قطعاً منع کیا گیا ہے اور اس کو رِجْسٌ مِنْ عَمَل الشیطن کہا گیا ہے۔کیا کوئی پادری ہے جو یہ دکھا دے کہ انجیل میں حرمت شراب کی لکھی ہے بلکہ شراب ایسی متبرک خیال کی گئی ہے کہ پہلا معجزہ مسیح کا شراب کا ہی تھا تو پھر دلیری کیوں نہ ہو۔جو بڑا پر ہیز گاران میں ہو گا وہ کم از کم ایک بوتل برانڈی کی ضرور استعمال کرتا ہو گا چنانچہ کثرت شراب نے ولایت میں آئے دن نئے نئے جرائم کو ایجاد کر دیا ہے۔۔۔۔۔قمار بازی میں اتلاف حقوق ہوتا ہے شراب نوشی کے ساتھ دوسرے گناہ مثل زنا قتل وغیرہ لازمی پڑے ہوئے ہیں۔جہاں تک ہمیں مجرموں کے حالات سے شہادت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ شراب سے زنا ترقی کرتا ہے چنانچہ شراب نوشی میں اس وقت یورپ اول درجہ پر ہے اور زنا میں بھی اول نمبر پر۔الحام جلدے نمبر ۲۲ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۳ صفحه ۱۷) 9991 يَاتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُوكُمْ ۚ وَإِن تَسْتَلُوا وو عَنْهَا حِيْنَ يُنَزِّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللهُ عَنْهَا ۖ وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں۔جس سے وہ اندر ہی اندر نشو ونما پاتارہتا ہے اور پھر اپنے شکوک اور شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے۔ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کر لے۔ہاں ! یہ سچ ہے کہ ذراذراسی بات پر سوال کرنا بھی مناسب نہیں۔اس سے منع فرمایا گیا ہے: لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کر کے دوسروں کی برائیوں کو نکالتا رہے یہ دونوں طریق برے ہیں لیکن اگر کوئی امرا ہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کر کے پوچھ لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ بھی فرمایا ہے بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا۔الحام جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱) الحکم جلدے نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰)