تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 72

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۲ سورة المائدة ام الخبائث ہے عیسائیوں میں حلال سمجھی جاتی ہے مگر ہماری شریعت میں اس کو قطعاً منع کیا گیا ہے اور اس کو رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيطن کہا گیا ہے۔ کیا کوئی پادری ہے جو یہ دکھا دے کہ انجیل میں حرمت شراب کی لکھی ہے بلکہ شراب ایسی متبرک خیال کی گئی ہے کہ پہلا معجزہ مسیح کا شراب کا ہی تھا تو پھر دلیری کیوں نہ ہو۔ جو بڑا پر ہیز گاران میں ہو گا وہ کم از کم ایک بوتل برانڈی کی ضرور استعمال کرتا ہو گا چنانچہ کثرت شراب نے ولایت میں آئے دن نئے نئے جرائم کو ایجاد کر دیا ہے ۔۔۔۔۔ قمار بازی میں اتلاف حقوق ہوتا ہے شراب نوشی کے ساتھ دوسرے گناہ مثل زنا قتل وغیرہ لازمی پڑے ہوئے ہیں۔ جہاں تک ہمیں مجرموں کے حالات سے شہادت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ شراب سے زنا ترقی کرتا ہے چنانچہ شراب نوشی میں اس وقت یورپ اول درجہ پر ہے اور زنا میں بھی اول نمبر پر ۔ الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخه ۱۷ رجون ۱۹۰۳ صفحه ۱۷) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُوكُمْ ۚ وَ إِنْ تَسْتَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزِّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ جو امر یہاں پیدا ہوتا ہے اس پر اگر غور کیا جاوے اور نیک نیتی اور تقویٰ کے پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر سوچا جاوے تو اس سے ایک علم پیدا ہوتا ہے۔ میں اس کو آپ کی صفائی قلب اور نیک نیتی کا نشان سمجھتا ہوں کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے اس کو پوچھ لیتے ہیں۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کو نکالتے نہیں اور پوچھتے نہیں ۔ جس سے وہ اندر ہی اندر نشو و نما پاتارہتا ہے اور پھر اپنے شکوک اور شبہات کے انڈے بچے دے دیتا ہے اور روح کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایسی کمزوری نفاق تک پہنچا دیتی ہے کہ جب کوئی امر سمجھ میں نہ آوے تو اسے پوچھا نہ جاوے اور خود ہی ایک رائے قائم کر لی جاوے۔ میں اس کو داخل ادب نہیں کرتا کہ انسان اپنی روح کو ہلاک کرلے۔ ہاں ! یہ سچ ہے کہ ذرا ذراسی بات ا پر سوال کرنا بھی مناسب نہیں ۔ اس سے منع فرمایا گیا ہے : لا تَسْلُوا عَنْ أَشْيَاء اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کر کے دوسروں کی برائیوں کو نکالتا رہے یہ دونوں طریق برے ہیں لیکن اگر کوئی امر اہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کر کے پوچھ لینا چاہیے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱) الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ را گست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰) اللہ تعالیٰ نے لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاء بھی فرمایا ہے بہت کھودنا اچھا نہیں ہوتا۔