تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 70

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۰ سورة المائدة کہا جاوے کہ وہ بھلا مانس ہے تو اس کے یہ معنے ہر گز نہیں ہوتے کہ باقی کے سب لوگ بھلے مانس نہیں بلکہ بدکار ہیں اسی طرح یہ ایک مقدمہ تھا کہ مسیح اور اس کی ماں پر الزام لگائے گئے تھے خدا نے شہادت دی کہ وہ الزاموں سے بری اور پاک ہیں کیا عدالت اگر ایک ملزم کو قتل کے مقدمہ میں بری کر دے تو اس سے یہ لازم آوے گا کہ باقی کے سب لوگ اس شہر کے ضرور قاتل اور خونخوار ہیں۔ غرضیکہ اس قسم کی بدعات اور فساد پھیلے ہوئے تھے جن کے دور کرنے کے لیے خدا نے ہمیں مبعوث کیا ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ ء صفحه (۴) پھر اور ایک آیت حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ گانا یا كُنِ الطَّعَامَ یعنی حضرت مسیح اور حضرت مریم جب زندہ تھے تو روٹی کھایا کرتے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ترک طعام کی دو معلوم ہو کہ دونوں مر گئے۔ وجہیں ہوتیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر علیحدہ علیحدہ کر دیتا کہ مریم تو بوجہ فوت ہونے کے طعام سے مہجور ہوگئی اور عیسیٰ کسی اور وجہ سے کھانا چھوڑ بیٹھا بلکہ دونوں کو ایک ہی آیت میں شامل کرنا اتحاد امر واقعہ پر دلیل ہے تا (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه (۹۱) لَتَجِدَنَ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا وَ لَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصْرَى ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِيسِينَ وَرُهْبَا نَّا وَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۔ سب فرقوں میں سے مسلمانوں کی طرف زیادہ تر رغبت کرنے والے عیسائی ہیں کیونکہ ان میں بعض بعض اہل علم اور راہب بھی ہیں جو تکبر نہیں کرتے ۔ ( براہین احمد یہ چہار خصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۷۷) وَ إِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ ۔ اور جب خدا کے کلام کو جو اس کے رسول پر نازل ہو سنتے ہیں تب تو دیکھتا ہے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس وجہ سے کہ وہ حقانیت کلام الہی کو پہچان جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا یا ہم ایمان لائے ہم کو ان لوگوں میں لکھ لے جو تیرے دین کی سچائی کے گواہ ہیں۔ (براہین احمدیہ چہار حص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۷۷)