تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 69

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۹ سورة المائدة انسانیت ثابت ہو یہ لوگ اُس دلیل کی بے عزتی کرتے ہیں۔کیونکہ جس بات سے خدا تعالی انکار کرتا ہے کہ وہ بات میسیج میں موجود نہیں تا اس کو خد ا ٹھہرایا جائے یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بات اُس میں موجود ہے۔پس یہ خدا کی اس حجت کاملہ کی بے عزتی ہے جو حضرت عیسی کے انسان ہونے کے لئے وہ پیش کرتا ہے۔اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسی با وجود جسم عنصری کے روٹی کھانے کے محتاج نہیں اور ان کا بدن خدا کے وجود کی طرح خود بخود قائم رہ سکتا ہے تو یہ تو اُن کی خدائی کی ایک دلیل ہے جو قدیم سے عیسائی پیش کیا کرتے ہیں اور اس کے جواب میں یہ کہنا کافی نہیں کہ زمین پر تو وہ روٹی کھایا کرتے تھے گو وہ آسمان پر نہیں کھاتے کیونکہ مخالف کہہ سکتا ہے کہ زمین پر وہ محض اپنے اختیار سے کھاتے تھے انسانوں کی طرح روٹی کے محتاج نہ تھے اور اگر محتاج ہوتے تو آسمان پر بھی ضرور محتاج ہوتے۔مجھے بار بار اس قوم پر افسوس آتا ہے کہ خدا تو حضرت مسیح کا روٹی کھانا ان کی انسانیت پر دلیل لاوے اور یہ لوگ اعتقاد رکھیں کہ گو حضرت مسیح نے زمین پر تیس ۳۰ برس تک روٹی کھائی مگر آسمان پر اُنیس ۱۹۰۰ سو برس سے بغیر روٹی کھانے کے جیتے ہیں۔(برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۲، ۳۹۳) مریم علیہا السلام کو صدیقہ کہا گیا اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اور عور تیں صدیقہ نہ تھیں یہ بھی اسی لیے کہا کہ یہودی ان پر تہمت لگاتے تھے تو قرآن نے اس تہمت کو دور کیا۔البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۵۷) حضرت مسیح کی ماں کی نسبت جو صدیقہ کا لفظ آیا ہے یہ بھی دراصل رفع الزام ہی کے لیے آیا ہے یہودی جو معاذ اللہ ! ان کو فاسقہ فاجر پھہراتے تھے قرآن شریف نے صدیقہ کہہ کر ان کے الزاموں کو دور کیا ہے کہ وہ صدیقہ تھیں۔اس سے کوئی خصوصیت اور فخر ثابت نہیں ہوتا اور نہ عیسائی کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ ان کو تو یہ امور پیش بھی نہیں کرنے چاہئیں۔القام جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸) حضرت مسیح اور ان کی ماں مریم پر یہود کا اعتراض تھا۔مسیح کو وہ لوگ ناجائز ولادت کا الزام لگاتے اور مریم کو زانیہ کہتے تھے۔قرآن شریف کا کام ہے کہ انبیاء پر سے اعتراضات کو رفع کرے اس لیے اس نے مریم کے حق میں زانیہ کی بجائے صدیقہ کا لفظ رکھا اور مسیح کو من شیطان سے پاک کہا اگر ایک محلہ میں صرف ایک عورت کا تبر یہ کیا جاوے اور اس کی نسبت کہا جاوے کہ وہ بد کار نہیں ہے تو اس سے یہ التزام لازم نہیں آتا کہ باقی کی سب ضرور بدکار ہیں صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس پر جو الزام ہے وہ غلط ہے یا اگر ایک آدمی کو