تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 78
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۸ سورة ال عمران ہوں ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۳) کی تہمتوں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا اے عیسی ! میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا یعنی رفع درجات کروں گا یا دنیا سے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعین کو ان پر جو منکر ہیں قیامت تک غلبہ بخشوں گا یعنی تیرے ہم عقیدہ اور ہم مشربوں کو حجت اور برہان اور برکات کے رو سے دوسرے لوگوں پر قیامت تک فائق رکھوں گا۔ ( براہین احمدیہ ہر چہار تصص، روحانی خزائن جلدا، صفحه ۶۶۴ ، ۶۶۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴) اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دینے والا ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں ۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جاوے اور ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ ( الفجر : ۲۹ ) کی خبر اس کو پہنچ جائے پہلے اس کا وفات پانا ضروری ہے۔ پھر بموجب آیت کریمہ : ارجعی الی ربک اور حدیث صحیح کے اس کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔ اور وفات کے بعد مومن کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں پھر بعد اس کے جو خدائے تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا جو میں تجھے کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود چاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کر کے اس الزام کے نیچے داخل کریں جو تو ریت باب استثناء میں لکھا ہے : جو مصلوب لعنتی اور خدائے تعالیٰ کی رحمت سے بے نصیب ہے، جو عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا نہیں جاتا۔ سو خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اس آیت میں بشارت دی کہ تو اپنی موت طبعی سے فوت ہوگا اور پھر عزت کے ساتھ میری طرف اُٹھایا جائے گا اور جو تیرے مصلوب کرنے کے لئے تیرے دشمن کوشش کر رہے ہیں ان کوششوں میں وہ ناکام رہیں گے اور جن الزاموں کے قائم کرنے کے لئے وہ فکر میں ہیں اُن تمام الزاموں سے میں تجھے پاک اور منزہ رکھوں گا یعنی مصلوبیت اور اس کے بدنتائج سے جو عنتی ہونا اور نبوت سے محروم ہونا اور رفع سے بے نصیب ہونا ہے۔ اور اس جگہ توفی کے لفظ میں بھی مصلوبیت سے بچانے کے لئے ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ توفی کے معنے پر غالب یہی