تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 68
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ سورة ال عمران روحانی طور پر مردے زندہ ہوا کرتے ہیں اور اگر یہ کہو کہ ایک شخص مر گیا اور پھر زندہ ہو گیا یہ قرآن شریف یا احادیث سے ثابت نہیں ہے۔اور ایسا ماننے سے پھر قرآن شریف اور احادیث نبوی گویا ساری شریعت اسلام ہی کو ناقص ماننا پڑے گا کیونکہ رد الموٹی کے متعلق مسائل نہ قرآن شریف میں ہیں ، نہ حدیث نے کہیں ان کی صراحت کی ہے اور نہ فقہ میں کوئی بات اس کے متعلق ہے ، غرض کسی نے بھی اس کی تشریح نہیں کی۔اس طرح پر یہ مسئلہ بھی صاف ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۶ ، مورخه ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸) ہم اعجازی احیاء کے قائل ہیں مگر یہ بات بالکل ٹھیک نہیں ہے کہ ایک مردہ اس طرح زندہ ہوا ہو کہ وہ پھر اپنے گھر میں آیا اور رہا اور ایک اور عمر اس نے بسر کی اگر ایسا ہوتا تو قرآن ناقص ٹھہرتا ہے کہ اس نے ایسے شخص کی وراثت کے بارے میں کوئی ذکر نہ کیا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مور نه کیم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۶) اصل میں خلق طیور اور احیاء موٹی پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے۔۔۔۔نہ احیاء موٹی سے یہ مطلب ہے کہ حقیقی مردہ کا احیاء کیا گیا۔۔۔۔احیاء موٹی کے یہ معنی ہیں کہ (۱) روحانی زندگی عطا کی جاوے (۲) یہ کہ بذریعہ دعا ایسے انسان کو شفا دی جاوے کہ وہ گویا مردوں میں شمار ہو چکا ہو جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ فلاں تو مر کر جیا ہے۔احیاء موٹی سے مراد بھی خطر ناک مریضوں کا تندرست ہونا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۴۷ ، مورخه ۱۶ / دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۷۴) 2 ( بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ سے فروری ۱۹۰۷ ، صفحہ ۴) معجزہ عادات الہیہ میں سے ایک ایسی عادت یا یوں کہو کہ اس قادر مطلق کے افعال میں سے ایک ایسا فعل ہے جس کو اضافی طور پر خارق عادت کہنا چاہئے پس امر خارق عادت کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جب پاک نفس لوگ عام طریق و طرز انسانی سے ترقی کر کے اور معمولی عادات کو پھاڑ کر قرب الہی کے میدانوں میں آگے قدم رکھتے ہیں تو خدائے تعالیٰ حسب حالت ان کے ایک ایسا عجیب معاملہ ان سے کرتا ہے کہ وہ عام حالات انسانی پر خیال کرنے کے بعد ایک امر خارق عادت دکھائی دیتا ہے اور جس قدر انسان اپنی بشریت کے وطن کو چھوڑ کر اور اپنے نفس کے حجابوں کو پھاڑ کر عرصات عشق و محبت میں دور تر چلا جاتا ہے اسی قدر یہ خوارق نہایت صاف اور شفاف اور روشن و تابان ظہور میں آتے ہیں۔جب تزکیہ نفس انسانی کمال تام کی حالت پر پہنچتا ہے اور اس کا دل غیر اللہ سے بالکل خالی ہو جاتا ہے اور محبت الہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے تمام اقوال وافعال و اعمال و حرکات و سکنات و عبادات و معاملات و اخلاق جو انتہائی درجہ پر