تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 61
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۱ سورة ال عمران وَيُؤَيَّدُوْنَ الْمُتَنَظِرِينَ وَهَلَكَ بِهَا إِلَى اور نصاری کو مدد پہنچا رہے ہیں۔اور ان عقائد کی شامت الأن أُلُوفٌ مِنَ النَّاسِ وَدَخَلُوا فِي الْمِلَّةِ سے اب تک ہزاروں انسان ہلاک ہو چکے اور نصرانی مذہب النَّصْرَانِيَّةِ بَعْدَ مَا كَانُوا مُسْلِمِينَ۔وَمَا میں داخل ہو گئے بعد اس کے جو وہ مسلمان تھے۔اور قرآن كَانَ فِي الْقُرآنِ ذِكْرُ خَلْقِهِ عَلَى الْوَجْهِ میں مسیح کے پرندے بنانے کا ذکر حقیقی طور پر کہیں بھی نہیں الْحَقِيقي، وَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى عِنْدَ ذِكْرِ اور خدا نے اس قصہ کے ذکر کرنے کے وقت یہ نہیں فرمایا کہ هذِهِ الْقِصَّةِ فَيَصِيرُ حَيًّا بِإِذْنِ اللهِ ، بَلْ فَيَصِيرُ حَيَا بِإِذْنِ اللهِ بلکہ یہ فرمایا کہ : فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ قالَ، فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ فَانْظُرُ وا لفظ الله سولفظ فَيَكُونُ اور لفظ طیرا میں غور کرو کہ کیوں اس فَيَكُونُ وَلَفْظَ طَيْرًا ، لِمَ اخْتَارَ هُمَا الْعَلِيمُ علیم حکیم نے انہیں دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ فَيَصيرُ الْحَكِيمُ وَتَرَكَ لَفْظَ يَصِيرُ وَ حَيًّا، فَقَبَتَ حَيًّا کو چھوڑ دیا؟ سو اس جگہ ثابت ہوا کہ اس جگہ خدا تعالیٰ مِنْ هُهُنَا أَنَّ اللَّهَ مَا أَرَادَ هُهُنَا خَلْقًا کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالقیت مراد نہیں ہے جو اس حَقِيقِيًّا كَخَلْقِهِ عَزَّوَجَلَّ وَ يُؤَيِّدُهُ ما کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات کرتے جَاءَ في كتب التَّفْسِيرِ مِن بَعْضِ ہیں جو بعض صحابہ سے تفسیروں میں بیان ہوئے ہیں اور وہ یہ الصَّحَابَةِ أَنَّ طَيْرَ عِيسَى مَا كَانَ يَطِيرُ إِلَّا کہ عیسی کا پرندہ اسی وقت تک پرواز کرتا تھا جب تک کہ وہ أَمَامَ أَعْيُنِ النَّاسِ، فَإِذَا غَابَ سَقَط عَلَی لوگوں کی نظروں کے سامنے رہتا تھا اور جب غائب ہوتا تھا الْأَرْضِ وَ رَجَعَ إِلى أَصْلِهِ كَعَصَا مُوسٰی وَ تو گر جاتا تھا اور اپنی اصل کی طرف رجوع کرتا تھا جیسے عصا كَذلِكَ كَانَ إِحْيَاءُ عِيسَى، فَأَيْنَ الْحَيَاةُ موسیٰ کا اور عیسی کا مردوں کو زندہ کرنا بھی ایسا ہی تھا۔سواس الحقيقي، فَلِأَجل ذلك اختار الله تعالی جگہ حیات حقیقی کہاں ثابت ہوئی ؟ سو اسی لئے خدا تعالیٰ نے فى هَذَا الْمَقَامِ أَلْفَاظًا تَنَاسَب اس مقام میں وہ لفظ اختیار کئے جو استعارات کے مناسب الْإِسْتِعَارَاتِ لِيُشير إلى الاعجاز الذين حال تھے تا کہ اس اعجاز کی طرف اشارہ کرے جو مجاز کی حد بَلَغَ إلى حَدِ الْمَجَازِ، وَذَكَرَ مَجَازًا ليُبَيِّنَ تک پہنچا تھا اور مجاز کو اس لئے ذکر کیا کہ تا ان کے معجزہ کو جو الْجَازًا، فَحَمَلَهُ الْجَاهِلُونَ الْمُسْتَعْجِلُونَ خارق عادت تھا بیان فرمادے پس اس مجاز کو جاہلوں نے عَلَى الْحَقِيقَةِ، وَسَلَكُوهُ مَسْلَكَ خَلْقِ اللهِ حقیقت پر عمل کر دیا اور ایسے مرتبہ میں داخل کیا جو الہی مِنْ غَيْرِ تَفَاوُتٍ، مَّعَ أَنَّهُ كَانَ مِنْ نَفْحِ پیدائش کا مرتبہ ہے حالانکہ وہ صرف نفخ مسیح اور اس کی روح