تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 57

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷ سورة ال عمران کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب نا کام کے رہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا ہونے کے لئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزار ہا بندگانِ خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچادیا اور اصلاح خلق اور اندرونی تبدیلیوں میں وہ ید بیضا دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی ۔ حضرت مسیح کے عمل الغرب سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب المرگ آدمی جو گویا نئے سرے زندہ ہو جاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مر جاتے تھے کیونکہ بذریعہ عمل الغرب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پر ان میں پیدا ہو جاتی تھی مگر جن کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہ جو میں نے مسمریز می طریق کا عمل الترب نام رکھا ، جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدائے تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الشرب ہے اور اس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الہام ہوا : هَذَا هُوَ التَّرْبُ الَّذِي لَا يَعْلَمُونَ یعنی یہ وہ عمل العرب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں ، ورنہ خدائے تعالیٰ اپنی ہر یک صفت میں واحد لاشریک ہے، اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا ۔ فرقان کریم کی آیات بینات میں اس قدر اس مضمون کی تاکید پائی جاتی ہے جو کسی پر مخفی نہیں جیسا کہ وہ عزاسمہ فرماتا ہے : الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاتِ وَالْأَرْضِ وَ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ الِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَ لَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتَا وَ لَا حَيُوةً وَ لَا نُشُورًا ( الفرقان : ۳، ۴ ) سورة الفرقان الجزو ۱۸ یعنی خدا، وہ خدا ہے جو تمام زمین و آسمان کا اکیلا مالک ہے کوئی اس کا حصہ دار نہیں، اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کے ملک میں کوئی اُس کا شریک اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اور اس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اور اور ایسے ایسے خدا مقرر کر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ اور مخلوق ہیں، اپنے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہیں اور نہ موت اور زندگی اور جی اُٹھنے کے مالک ہیں ۔ اب دیکھو! خدائے تعالیٰ صاف صاف طور پر فرما رہا ہے کہ بجز میرے کوئی اور خالق نہیں بلکہ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ تمام جہان مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتا اور صاف