تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 50
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران پیدا ہونا ایک نشان تھا اس بات پر کہ اب بنی اسرائیل کے خاندان میں نبوت کا خاتمہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے ساتھ وعدہ تھا کہ بشرط تقویٰ نبوت بنی اسرائیل کے گھرانے سے ہوگی لیکن جب تقویٰ نہ رہا تو یہ نشان دیا گیا تا کہ دانشمند سمجھ لیں کہ اب آئندہ اس سلسلہ کا انقطاع ہوگا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۷ ۱ را پریل ۱۹۰۱ء صفحه ۶،۵) ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں، نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا مردہ خدا ہے اور ایسے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بے باپ پیدا نہیں کر سکتا ، ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالی بنی اسرائیل کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ تمہاری حالتیں ایسی ردی ہوگئی ہیں کہ اب تم میں کوئی اس قابل نہیں جو نبی ہو سکے یا اُس کی اولاد میں سے کوئی نبی ہو سکے اسی واسطے آخری خلیفہ موسوی کو اللہ تعالیٰ نے بے باپ پیدا کیا اور ان کو سمجھایا کہ اب شریعت تمہارے خاندان سے گئی ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۳ ، مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۱ء، صفحہ ۱۱) یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کو ایک جا جمع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش خوارق طریق سے ہے ویسے ہی مسیح کی بھی ہے پھر یحیی علیہ السلام کی پیدائش کا حال بیان کر کے مسیح کی پیدائش کا حال بیان کیا ہے۔ یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے یعنی جس قدر معجز نمائی کی قوت یحییٰ کی پیدائش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدائش میں ہے۔ اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑ دیا اس سے کیا فائدہ تھا ؟ یہ اسی لئے کیا کہ تاویل کی گنجائش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جاذکر ہونا اعجازی امر کو ثابت کرتے ہیں۔ اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے۔ البدر جلد ۲ صفحه ۱۶ ، مورخه ۸ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۲۲) وہ (مسیح علیہ السلام ) بن باپ ہوئے اس کا زبردست ثبوت یہ ہے کہ یحییٰ اور عیسیٰ کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے۔ پہلے یحییٰ کا ذکر کیا جو بانجھ سے پیدا ہوئے ، دوسرا قصہ مسیح کا اس کے بعد بیان فرمایا۔ جو اس سے ترقی پر ہونا چاہئے تھا اور وہ یہی ہے کہ وہ بن باپ ہوئے اور یہی امر خارق عادت ہے۔ اگر بانجھ سے پیدا ہونے والے) یحییٰ کے بعد باپ سے پیدا ہونے والے کا ذکر ہوتا تو اس میں خارق عادت کی