تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 42
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدا سورة ال عمران قَالَ رَبِّ اجْعَلْ فِي آيَةً قَالَ ايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمزًا وَاذْكُرُ رَبَّكَ كَثِيرًا وَ سَبِّحُ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ ( سوال پیش ہوا) کہ حضرت زکریا علیہ السلام کی بابت جو آیا ہے کہ : أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَثَةَ أَيَّامٍ الا رمزا ، کیا اس سے یہ مراد ہے کہ وہ کلام نہ کریں گے؟ فرمایا: اس سے یہی معلوم ہوتا ہے، لا تَسْتَطِيعُ نہیں کہا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰، مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶) إِذْ قَالَتِ الْمَلَئِكَةُ يَمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ لا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ) ( اسْمُهُ الْمَسِيحُ ) یہ لفظ شیخ ہے جس کے معنے خلیفہ کے ہیں عربی اور عبرانی میں ، حدیثوں میں مسیح لکھا ہے اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷ رجولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۶ ) ۶) قولہ : مسیح کے دوبارہ آنے پر ایک یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اور حضرت مسیح نے اس زمانہ میں جب کہ وہ یہودیوں کے لئے معبوث ہوئے عزت نہیں پائی اس لئے ماننا پڑا کہ پھر وہ آئیں گے تب دنیا کی وجاہت اُن کو نصیب ہوگی ۔ اقول : یہ خیال بالکل بیہودہ ہے۔ قرآن شریف میں یہ لفظ نہیں کہ : وَجِيْهَا عِنْدَ أَهْلِ الدُّنْيَا - دنیا داروں اور دنیا کی نظر میں تو کوئی نبی بھی اپنے زمانے میں وجیہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے کسی نبی کو تسلیم نہیں کیا بلکہ قبول کرنے والے اکثر ضعفاء اور غرباء ہوئے ہیں جو دنیا سے بہت کم حصہ رکھتے تھے : سو آیت کے یہ معنے نہیں کہ پہلے زمانے میں عیسیٰ کو دنیا کے رئیسوں اور امیروں اور کرسی نشینوں نے قبول نہ کیا لیکن دوسری مرتبہ قبول کریں گے بلکہ قرآن کے عام محاورہ کے رُو سے آیت کے یہ معنے ہیں کہ دنیا میں بھی راستبازوں میں مسیح کی عزت ہوئی اور وجاہت مانی گئی جیسا کہ بچی نبی نے اُن کو مع اپنی تمام جماعت کے قبول کیا اور ان کی تصدیق کی اور بہتوں نے تصدیق کی اور قیامت میں بھی وجاہت ظاہر ہوگی۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا اب تک حضرت عیسی کو دنیا کی وجاہت نصیب نہ ہوئی حالانکہ چالیس کروڑ انسان اُن کو خدا کر کے مانتا ہے، کیا وجاہت کے لئے زندہ موجود ہونا بھی ضروری ہے اور مرنے کے بعد وجاہت جاتی رہتی