تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 465
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء رُوح منه یا کلمتہ کا لفظ بولا گیا ہے تو وہ بطور ذب اور دفع کے ہے۔اور اس الزام کو دور کیا گیا ہے جو ان پر لگایا گیا تھا ورنہ کل راستباز اور نیکو کار لوگ رُوع منہ ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اگر بے باپ پیدا ہونا دلیل الوہیت اور امنیت ہے تو پھر حضرت آدم علیہ السلام بدرجہ اولیٰ اس کے مستحق ہیں۔کیونکہ نہ ان کی الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) ماں ہے نہ باپ۔( فَأمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ۔۔۔۔۔اِنَّمَا اللهُ الهُ وَاحِدٌ ) سو تم خدا اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور یہ مت کہو کہ تین ہیں باز آجاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) ( إِنَّمَا اللهُ الله وَاحِدٌ۔۔۔۔۔و كفى بالله وكيلا ) خدا هر یک نقصان سے پاک ہے وہ تو غنی اور بے نیاز ہے جس کو کسی کی حاجت نہیں جو کچھ آسمان وزمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔کیا تم خدا پر ایسا بہتان لگاتے ہو جس کی تائید میں تمہارے پاس کسی نوع کا علم نہیں۔خدا کیوں بیٹوں کا محتاج ہونے لگاوہ کامل ہے اور فرائض الوہیت کے ادا کرنے کے لیے وہ ہی اکیلا کافی ہے کسی اور منصوبہ کی حاجت نہیں۔(براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) ياتهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا اے لوگو تمہارے پاس یہ یقینی بربان پہنچی ہے اور ایک کھلا نور تمہاری طرف ہم نے اُتارا ہے۔۱۷۵ ( نور القرآن نمبرا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۴) اے لوگو! قرآن ایک بُرہان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہے اور ایک کھلا کھلا نور ہے جو تمہاری (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۶) طرف اُتارا گیا ہے۔