تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 458
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۸ سورة النساء بات کو مستلزم نہیں جو اس کی مناسب حفاظت سے بکلی دستبردار ہو جائے مثلاً اگر کوئی گھر بنادے اور اس کے تمام کمرے سلیقہ سے طیار کرے اور اس کی تمام ضرورتیں جو عمارت کے متعلق ہیں باحسن وجہ پوری کر دیوے اور پھر مدت کے بعد اندھیریاں چلیں اور بارشیں ہوں اور اس گھر کے نقش و نگار پر گردوغبار بیٹھ جاوے اور اس کی خوبصورتی چُھپ جاوے اور پھر اس کا کوئی وارث اس گھر کو صاف اور سفید کرنا چاہے مگر اس کو منع کر دیا جاوے کہ گھر تو مکمل ہو چکا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ منع کرنا سراسر حماقت ہے افسوس کہ ایسے اعتراضات کرنے والے نہیں سوچتے کہ تکمیل شے دیگر ہے اور وقتاً فوقتاً ایک مکمل عمارت کی صفائی کرنا یہ اور بات ہے۔یہ یادر ہے کہ مجد دلوگ دین میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتے ہاں گمشدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے و مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ یعنی بعد اس کے جو خلیفے بھیجے جائیں پھر جو شخص ان کا منکر رہے وہ فاسقوں میں سے ہے۔اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ ظَلَمُوا لَمْ يَكُن اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمُ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۳، ۳۴۴) طَرِيقَالُ الاَ طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا باطنی بشارتوں کی طرف اشارہ فرما کر کہا۔کافر اور مشرک کہ جو شرک اور کفر پر مریں۔ان کے گناہ نہیں بخشے جائیں گے اور خدا ان کو ان کے کفر کی حالت میں اپنی معرفت کا راہ دکھلائے گا۔ہاں جہنم کا راہ دکھلائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔( براہین احمدیہ چهار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۴ حاشیہ نمبر ۱۱) يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَا مِنُوا خَيْرًا لَكُمْ وَإِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ، وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا۔یعنی اے لو گو حق اور ضرورت حقہ کے ساتھ تمہارے پاس یہ نبی آیا ہے۔نور القرآن نمبر ا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۴) اے لوگو! تمہارے پاس رسول حق کے ساتھ آیا ہے پس تم اس رسول پر ایمان لاؤ۔تمہاری بہتری اسی میں ہے اور اگر تم کفر اختیار کرو تو خدا کو تمہاری کیا پروا ہے۔زمین و آسمان سب اسی کا ہے اور سب اس کی اطاعت کر رہے ہیں اور خد العلیم اور حکیم ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۱، ۱۳۲)