تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 457
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۷ سورة النساء وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَ ١٢٦ كلم الله موسى تَكْلِيمَانَ رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةُ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزار ہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کر کے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا وَ كَلَّمَ اللهُ مُوسى تَكْلِيمان رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا يعنى خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور مندر تھے تا کہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔اور فرمایا وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہر یک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گذشته معجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزار ہا انبیاء کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بید لی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بد قسمت پا کر بنی اسرائیل کو رشک کی نگہ سے دیکھیں گے یا بد خیالات میں گرفتار ہو کر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات خیال کریں گے اور یہ قول کہ پہلے اس سے ہزار ہا انبیاء ہو چکے اور معجزات بھی بکثرت ہوئے اس لئے اس امت کو خوارق اور کرامات اور برکات کی کچھ ضرورت نہیں تھی لہذا خدا تعالیٰ نے ان کو سب باتوں سے محروم رکھا۔یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں جنہیں وہ لوگ منہ پر لاتے ہیں جن کو ایمان کی کچھ بھی پرواہ نہیں ورنہ انسان نہایت ضعیف اور ہمیشہ تقویت ایمان کا محتاج ہے اور اس راہ میں اپنے خود سا مختہ دلائل بھی کام نہیں آسکتے جب تک تازہ طور پر معلوم نہ ہو کہ خدا موجود ہے ہاں جھوٹا ایمان جو بدکاریوں کو روک نہیں سکتا نقلی اور عقلی طور پر قائم رہ سکتا ہے اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ دین کی تکمیل اس