تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 456
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۶ سورة النساء قَدْ مَاتُوْا وَلَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ، فَلَا تُحَرِّفُ كَلام فوت ہوچکے ہیں اور وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے تھے۔پس اللهِ لِعَقِيدَةٍ هِيَ بَاطِلَةٌ بِالْبَدَاهَةِ۔وَقَدْ قَالَ تو اس عقیدہ کی خاطر جو بالبداہت باطل ہے اللہ کے کلام الله تعالى وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء میں تحریف نہ کر۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ إلى يَوْمِ الْقِيمَةِ فَكَيْفَ الْعَدَاوَةُ بَعْدَ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ پھر ایمان لانے الْإِيْمَانِ بِعِيسَى: أَلَمْ يَبْقَ فِي رَأْسِكُمْ کے بعد مسیح سے عداوت کیسی۔کیا تمہارے سروں میں ذرا ذَرَّةٌ مِنَ الْفِطْئَةِ أَلَيْسَ في هَذِهِ الْآيَةِ رَدُّ بھی سمجھ نہیں رہی۔کیا اس آیت میں ان تمام لوگوں کا عَلى مَنْ زَعَمَ أَنَّ جَمِيعَ فِرَقِ الْيَهُودِ رو نہیں ہے جو گمان کرتے ہیں کہ تمام فرقہائے یہود يُؤْمِنُونَ بِعِيسَى فَمَا لَكُمْ تُخَالِفُونَ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔پس النّص الَّذِي هُوَ أَظهَرُ وَأَجْلى؟ فَأَيُّ آيَةٍ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ایک ایسی نص کی مخالفت کرتے ہو بَقِيَتْ فِي أَيْدِيكُمْ بِهَا تَتَمَسَّكُونَ؟ جو نہایت واضح اور روشن ہے تمہارے پاس وہ کونسی آیت (الاستفتاء، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۷۲، ۶۷۳) ہے جس سے تم یہ استدلال کرتے ہو۔(ترجمہ از مرتب) ہمارے مخالف اس آیت کو پیش کیا کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ مسیح کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب مومن ہو جائیں گے۔ان کو اتنا معلوم نہیں کہ موتہ کی ضمیر اس طرف نہیں جاتی۔تفسیر مظہری میں اس آیت پر خوب بحث کی گئی ہے اور انہوں نے دوسری قرآت قبل موعہ کی لکھی ہے اور ابو ہریرہ کی حدیث جو اس کی تائید میں مخالف پیش کرتے ہیں اس پر بھی جرح کی گئی ہے۔خود انہوں نے مانا ہے کہ ابو ہریرہ کی درایت ٹھیک نہیں۔علاوہ بریں یہ معنی قرآن شریف کے صریح مخالف ہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام ہی کو مخاطب کر کے فرمایا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ - اب تک اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ منکرین کا وجود قیامت تک رہے گا کیونکہ اگر منکرین ہی کا وجود نہیں تو پھر غلبه کیسا؟ پھر دوسری جگہ فرمایا وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اور پھر تیسری جگہ فرمایا فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ - ان سب آیتوں پر یکجائی نظر کرنے کے بعد یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ کل فرقے باقی رہیں گے یہ کہنا کہ کل مسلمان ہو جائیں گے غلط ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۲)