تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 455

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۵ سورة النساء ہو جائے گا اور یہ سراسر مخالف قرآن شریف ہے۔جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیئے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک رڈی متاع کی طرح پھینک دے بلکہ چونکہ قراءت ثانی حسب اصول محدثین حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے اور اس جگہ آیت قبل موتہ کی دوسری قراءت قبل موتھ موجود ہے جس کو حدیث صحیح سمجھنا چاہیئے۔اس صورت میں ابو ہریرہ کا قول قرآن اور حدیث دونوں کے مخالف ہے۔فلا شك انه باطل و من تبعه فانّه مفسد بطال۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۱۰،۴۰۹) یہ عقیدہ کھلے طور پر قرآن شریف کے مخالف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ سب لوگ حضرت عیسی کو قبول کر لیں گے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۶) دنیا میں خدا پر ایمان لانے کا یہ اجر ملتا ہے کہ ایسے شخص کو خدا تعالیٰ پوری ہدایت بخشتا ہے اور ضائع نہیں کرتا اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے۔وَ اِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب الاليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ - یعنی وہ لوگ جو درحقیقت اہل کتاب ہیں اور سچے دل سے خدا پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لاتے اور عمل کرتے ہیں وہ آخر کار اس نبی پر ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہاں خبیث آدمی جن کو اہل کتاب نہیں کہنا چاہیئے وہ ایمان نہیں لاتے۔(حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۹) یعنی ایسا کوئی اہل کتاب نہیں جو اپنی موت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عیسی پر ایمان نہ لاوے۔اور تفاسیر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کو یہ الہام اس وقت ہوتا ہے جب وہ جان کندن کی حالت میں ہوتے ہیں یا موت کا وقت بہت قریب ہوتا ہے اور اب ظاہر ہے کہ وہ تبھی ایمان لاتے ہیں جب ان کو منجانب اللہ الہام ہوتا ہے کہ فلاں رسول سچا ہے مگر اس الہام سے وہ خدا کے برگزیدہ نہیں ٹھہر سکتے اور خدا تعالیٰ کی سنت اسی طرح جاری ہے کہ موت کے قریب اکثر لوگوں کو کوئی خواب یا الہام ہو جاتا ہے۔اس میں کسی مذہب کی خصوصیت نہیں اور نہ صالح اور نکوکار ہونے کی شرط ہے۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵۸) وَ أَمَّا إِيْمَانُ أَهْلِ الْكِتَابِ كُلِّهِمْ تمام اہل کتاب کا حضرت عیسی پر ایمان لے آنا جیسا بِعِيسَى كَمَا ظَنُّوا فِي مَعْنَى الْآيَةِ المَذْكُورَةِ کہ آیت مذکورہ کے بارہ میں ان کا خیال ہے تو تم ان کے فَأَنْتَ تَعْلَمُ حَقِيقَةً إِبْمَا يهم، لا حَاجَةَ إِلَى ایمان کی حقیقت کو جانتے ہو اس کے ذکر کرنے کی التَّذْكِرَةِ وَتَعْلَمُ أَنّ أَفْوَاجًا مِن الْيَهُودِ ضرورت نہیں۔نیز تم یہ بھی جانتے ہو کہ فوج در فوج یہودی