تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 454

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۴ سورة النساء ہے۔وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ - ان آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے قیامت تک یہود اور نصاری میں دشمنی اور عداوت ڈال دی ہے پس اگر آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ قیامت سے پہلے تمام یہودی حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کسی وقت یہود و نصاریٰ کا بغض با ہمی دور بھی ہو جائے گا اور یہودی مذہب کا تخم زمین پر نہیں رہے گا حالانکہ قرآن شریف کی ان آیات سے اور کئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی مذہب قیامت تک رہے گا۔ہاں ذلت اور مسکنت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ دوسری طاقتوں کی پناہ میں زندگی بسر کریں گے۔پس آیت مدوحہ بالا کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اہل کتاب میں سے ہے وہ اپنی موت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسی پر ایمان لے آویں گے۔غرض موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ حضرت عیسی کی طرف اسی وجہ سے اس آیت کی دوسری قراءت میں مو تجھ واقع ہے۔اگر حضرت عیسی کی طرف یہ ضمیر پھرتی تو دوسری قراءت میں موت کیوں ہوتا ؟ دیکھو تفسیر ثنائی کہ اس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہی معنے ہیں مگر صاحب تفسیر لکھتا ہے کہ ابو ہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ابوہریرہ میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔اور میں کہتا ہوں کہ اگر ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایسے معنے کئے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہے جیسا کہ اور کئی مقام میں محدثین نے ثابت کیا ہے کہ جو امور فہم اور درایت کے متعلق ہیں اکثر ابو ہریرہ اُن کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا ہے اور غلطی کرتا ہے۔یہ مسلم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شرعی حجت نہیں ہوسکتی۔شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے۔سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس بات پر اجماع صحابہ ہو چکا ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔اور یاد رکھنا چاہیئے کہ جبکہ آیت قبل موتہ کی دوسری قراءت قبل موتهم موجود ہے جو بموجب اصول محد ثین کے حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے یعنی ایسی حدیث جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو کار اس صورت میں محض ابو ہریرہ کا اپنا قول رد کرنے کے لائق ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مقابل پر پیچ اور لغو ہے اور اُس پر اصرار کرنا کفر تک پہنچا سکتا ہے۔اور پھر صرف اسی قدر نہیں بلکہ ابو ہریرہ کے قول سے قرآن شریف کا باطل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ قرآن شریف تو جابجا فرماتا ہے کہ یہودو نصاری قیامت تک رہیں گے ان کا بکی استیصال نہیں ہوگا۔اور ابو ہریرہ کہتا ہے کہ یہود کا استیصال بکلی