تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 452
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۲ سورة النساء بَعْضُهُمْ إِنَّهُ رَاجِعُ إِلَى الْفُرْقَانِ وَقَالَ قرآن کریم کی طرف جاتی ہے اور ان میں سے بعض نے کہا بَعْضُهُمْ إِنَّهُ رَاجِعُ إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَقِيلَ ہے کہ یہ غیر اللہ تعالیٰ کی طرف جاتی ہے اور بعض کے نزدیک إِنَّهُ رَاجِع إلى عِيسَى وَهَذَا قَوْل ضَعِيفٌ اس ضمیر کا مرجع حضرت عیسی علیہ السلام ہیں۔لیکن یہ ایک مَّا الْتَفَتَ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ الْمُحَقِيقِينَ فَيَا ضعیف قول ہے جس کو کسی محقق نے قابل اعتنا نہیں ٹھہرایا۔حَسْرَةً عَلى أَعْدَاتِنَا الْمُخَالِفِينَ ! إِنَّهُمْ ہیں ہمارے مخالف دشمنوں پر افسوس ہے کہ وہ قرآن کریم يَتْرُكُونَ الْقُرْآنَ وَبَيْنَاتِهِ، بَلْ قُلُوبُهُمْ اور اس کے بینات کو چھوڑتے ہیں۔بلکہ اس کے متعلق ان في غَمْرَةٍ مِن هَذَا وَيَقُولُونَ بِالخَوَانِهِمْ إِنَّا کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں وہ اپنے مونہوں نَتَّبِعُ أَخْبَارَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے تو کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث وَسَلَّمَ، وَلَيْسُوا مُتَّبِعِینَ، بَلْ يَتْرُكُونَ کی پیروی کرتے ہیں۔لیکن حقیقت میں وہ پیروی کرنے أَقْوَالًا ثَابِتَةً مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ والے نہیں۔بلکہ وہ ایسے اقوال کو بھی ترک کر دیتے ہیں جو وَسَلَّمَ، وَيُبَتِلُونَ الخَبية بالطيب رسول اکرم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور بِالطَّيِّبِ وَيَكْتُمُونَ الْحَقِّ وَكَانُوا عَارِفِينَ۔طیب کے بدلے خبیث کو اختیار کرتے ہیں اور جانتے (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۴۱) بو جھتے ہوئے حق کو چھپاتے ہیں۔(ترجمہ از مرتب ) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بار بار حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر اسی لئے زور دیا ہے کہ تا آئندہ زمانہ میں ایسے لوگوں پر حجت ہو جائے جو ناحق اس دھو کہ میں مبتلا ہونے والے تھے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور مسیح کی حیات پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور جو دلائل پیش کرتے ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن پر سخت درجہ کی عبادت غالب آگئی ہے۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب الاليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ حضرت مسیح کی زندگی پر دلالت کرتی ہے اور اُن کے مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لے آئیں گے مگر افسوس کہ وہ اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں جس حالت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ - جس کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔جب یہودی نہ رہے اور سب ایمان لے آئے تو پھر بغض اور دشمنی کے لئے