تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 444
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۴ b سورة النساء اور قراءت قبل موتہم کس قدر وثوق سے ثابت ہوتی ہے پھر باوجود یکہ یہ تاویل صحابہ کرام کی طرف سے ہے اور بلا شبہ قراءت شازہ حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے مگر آپ اس کو نظر انداز کر کے اور نحوی قواعد کو اپنے زعم میں اس کے مخالف سمجھ کر تمام بزرگ اور اکا بر قوم اور صحابہ کرام کی صریح ہجو اور توہین کر رہے ہیں گویا آپ کے نحوی قواعد کی صحابہ کو بھی خبر نہیں تھی اور ابن عباس جیسا صحابی جس کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فہم قرآن کی دعا بھی ہے وہ بھی آپ کے ان عجیب معنوں سے بے خبر رہا۔آپ پر قراءت قبل موتھ کا بھی وثوق کھل گیا ہے اب فرض کے طور پر اگر قبول کر لیں کہ ابن عباس اور علی بن طلحہ اور عکرمہ وغیرہ صحابہ ان معنوں کے سمجھنے میں خطا پر تھے اور قراءت اُبی بن کعب بھی یعنی قبل موتهم کامل درجہ پر ثابت نہیں تو کیا آپ کے دعوئی قطعیۃ الدلالت ہو نے آیت لیؤمنن بہ پر اس کا کچھ بھی اثر نہ پڑا۔کیا وہ دعوی جس کے مخالف صحابہ کرام بلند آواز سے شہادت دے رہے ہیں اور دنیا کی تمام مبسوط تفسیریں باتفاق اس پر شہادت دے رہی ہیں اب تک قطعیۃ الدلالت ہے۔يَا أَخي اتَّقِ اللهَ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُوتِيكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل : ۳۷)۔اور جب ان روایتوں کے ساتھ وہ روایتیں بھی ملا دیں جن میں اِنِّي مُتَوَفِّيكَ كے معنے مُميتك لکھے ہیں جیسے ابن عباس کی روایت اور وہب اور محمد بن اسحاق کی روایت کے کوئی ان میں سے عام طور پر حضرت مسیح کی موت کا قائل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ تین گھنٹہ تک مر گئے تھے اور کوئی سات گھنٹہ تک ان کی موت کا قائل ہے اور کوئی تین دن تک جیسا کہ فتح البیان اور معالم التنزیل اور تفسیر کبیر وغیرہ تفاسیر سے ظاہر ہے تو پھر اس صورت میں اس وہم کی اور بھی بیخ کنی ہوتی ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔غرض آپ کا نور قلب شہادت دے سکتا ہے کہ جس قدر میں نے لکھا ہے آپ کے دعوے قطعیۃ الدلالت کے توڑنے کیلئے کافی ہے قطعیۃ الدلالت اس کو کہتے ہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال پیدا نہ ہو سکے مگر آپ جانتے ہیں کہ اکابر صحابہ اور تابعین کے گروہ نے آپ کے معنے قبول نہیں کئے اور مفسرین نے جابجا اس آپ کی تاویل کو قیل کے لفظ سے بیان کیا ہے جو ضعف روایت پر دلالت کرتا ہے۔عام رائے تفسیروں کی یہی پائی جاتی ہے کہ قراءت قبل موتہم کے موافق معنے کرنے چاہئیں اور ضمیر بہ کا نہ صرف حضرت عیسیٰ کی طرف بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ جل شانہ کی طرف پھیرتے ہیں۔اب آپ کی رائے کی قطعیت کیونکر باقی رہ سکتی ہے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۸۴ تا ۱۹۰)