تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 443
۴۴۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء نہیں جب تک تمام رسولوں پر ایمان نہ لایا جائے اور محمد مصطفی صلحم پر ایمان لا نا عیسی پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔اور قبل موتہ کی یہ تفسیر ہے کہ ہر ایک کتابی اپنی موت سے پہلے عذاب کے فرشتوں کے دیکھنے کے بعد رسول اللہ صلعم پر ایمان لائے گا جب کہ اس کو ایمان کچھ فائدہ نہیں دے گا۔یہ علی بن طلحہ کی روایت ابن عباس سے ہے رضی اللہ عنہما علی بن طلحہ کہتا ہے کہ ابن عباس کو کہا گیا کہ اگر کوئی چھت پر سے گر پڑے تو پھر وہ کیونکر ایمان لائے گا۔ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ ہوا میں اس اقرار کو ادا کرے گا پھر پوچھا گیا کہ اگر کسی کی گردن ماری جاوے تو وہ کیونکر ایمان لاوے گا تو ابن عباس نے کہا کہ اس وقت بھی اس کی زبان میں اقرار کے الفاظ جاری ہو جائیں گے۔حاصل کلام یہ کہ کتابی نہیں مرے گا جب تک اللہ جل شانہ، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی پر ایمان نہ لاوے بعض کہتے ہیں کہ کتابی فی حین من الاحیان ایمان لائے گا اگر چہ عذاب کے معائنہ کے وقت ہو اور بعض کہتے ہیں کہ دونوں ضمیریں عیسی کی طرف پھرتی ہیں۔اور یہ معنے لیتے ہیں کہ جب عیسی نازل ہوگا تو تمام اہلِ ملل اس پر ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر باقی نہیں رہے گا اور یہ تاویل ابوہریرہ سے مروی ہے لیکن آیت لیو منن بہ سے یہ معنے جو ابو ہریرہ نے خیال کئے ہیں ہرگز نہیں نکلتے اور قبل موتہ کی ضمیر عیسی کی طرف کسی طرح پھر نہیں سکتی یہ صرف ابو ہریرہ کا گمان ہے۔احادیث مرفوعہ میں اس کا کوئی اصل صحیح نہیں پایا جاتا اور کیوں کر یہ تاویل صحیح ہوسکتی ہے باوجود یکہ کلمہ ان موجود بین کو بھی تو شامل ہے یعنی ان اہل کتاب کو جو آنحضرت مسلم کے زمانہ میں موجود تھے۔خواہ یہ کلمہ انہیں سے خاص ہو یا خاص نہ ہو لیکن حقیقت کلام کا مصداق ٹھہرانے کیلئے حال سب زمانوں سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور کوئی وجہ اس بات کی نہیں پائی جاتی کہ کیوں وہی اہل کتاب خاص کئے جائیں جو حضرت عیسی کے نزول کے وقت موجود ہوں گے پھر صحیح تاویل وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں یعنی ضمیر ہے کی عیسی کی طرف نہیں پھرتی بلکہ کتابی کی طرف پھرتی ہے اور اسی کے قراءت ابی بن کعب مؤید ہے جس کو ابن المنذر نے ابی ہاشم سے لیا ہے اور نیز عُروہ سے بھی۔اور وہ قراءت یہ ہے۔وَ اِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ الأَلَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبلَ مَوْتِهِمْ - یعنی اہل کتاب اپنی موت سے پہلے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی پر ایمان لاویں گے۔اسی کے قریب قریب ابن کثیر اور تفسیر کبیر اور فتح البیان و معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر میں لکھا ہے۔اب دیکھئے کہ حضرت عکرمہ اور حضرت ابن عباس اور علی بن طلحہ رضی اللہ عنہم یہی تأویل لیؤمنن بہ کی کرتے ہیں کہ پہلی ضمیر محمد مصطفی صلحم اور عیسی کی طرف پھرتی ہے اور دوسری ضمیر قبل موتہ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے