تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 424
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۴ سورة النساء وَاللَّعْنُ يُنَا فِي الرَّفْعَ بَلْ هُوَ ضِدُّهُ كَمَا لَا آپ تو رات کے حکم کے مطابق ملعون ہو گئے اور لعنت يخفى على ذَوِى الْحَصَاةِ، فَرَدَّ اللهُ عَلى رفع کی منافی ہے بلکہ اس کی ضد ہے جیسا کہ اہل عقل پر هَاتَيْنِ الطَّائِفَتَيْنِ بِقَوْلِهِ : بَلْ رَفَعَهُ الله مخفی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے بَلْ نَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کہہ کر إِلَيْهِ، وَالْمَقْصُودُ مِنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ يَمَلْعُونِ ان دونوں گروہوں کا رد کر دیا اور اس سے مقصد یہ تھا کہ بَلْ مِنَ الَّذِينَ يُرْفَعُونَ وَيُكْرَمُونَ أَمَامَ عیسی علیہ السلام ملعون نہیں ہیں بلکہ آپ ان لوگوں میں سے عَيْنَيْهِ، وَمَا كَانَ إنْكَارُ الْيَهُودِ إِلَّا مِن ہیں جن کا رفع کیا جاتا ہے اور جو خدا کی نگاہ میں معزز ہوتے الرَّفْعِ الرُّوْحَانِي الَّذِى لَا يَسْتَحِقُهُ ہیں۔نیز یہود کا انکار بھی اسی رفع روحانی سے تھا جس کا الْمَصْلُوبُ وَلَيْسَ عِندَهُمْ رَفعُ الجِسْمِ کسی مصلوب کو حق نہیں پہنچتا ورنہ ان کے نزدیک رفع مَدَارَ النَّجَاةِ، فَالْبَحْتُ عَنْهُ لَغُوَلا يَلْزِمُ جسمانی نجات کا مدار نہیں۔پس رفع جسمانی کے متعلق مِنْهُ اللَّعْنَ وَالذُّنُوبُ فَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ ایسی بحث کرنا لغو ہے جس سے گناہ اور لعنت لازم نہ آئیں وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَمُوسَى مَا رُفِعَ أَحَدٌ دیکھو ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور موسیٰ میں سے کوئی مِنْهُمْ إِلَى السَّمَاءِ جِسْمِهِ الْعُنْصُرِي كَمَا بھی اپنے جسم عصری کے ساتھ آسمان کی طرف نہیں اُٹھایا لا يخفى وَلَا شَكَ أَنَّهُمْ يُعِدُوا من اللَّعْنَةِ گیا جیسا کہ سب پر ظاہر ہے اور اس میں بھی کوئی شک وَجُعِلُوا مِنَ الْمُقَرَّبِينَ، وَتَجَوْا بِفَضْلِ اللہ نہیں کہ یہ سب لعنت سے دور رکھے گئے تھے اور اللہ کے بَلْ كَانُوا سَادَةَ النَّاجِينَ، فَلَوْ كَانَ رَفْعُ مقرب بنائے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ الْجِسْمِ إِلَى السَّمَاءِ مِنْ شَرَائِطِ التَّجَاةِ۔انہوں نے نجات حاصل کی تھی بلکہ وہ نجات پانے والوں لكَانَ عَقِيدَةُ الْيَهُودِ فِي أَنْبِيَاءهم أَنَّهُمْ کے سردار تھے اگر جسم کا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا نجات رُفِعُوا مَعَ الْجِسْمِ إِلَى السَّمَاوَاتِ کی شرائط میں سے ہوتا تو یہود کا عقیدہ اپنے انبیاء کے فَالْحَاصِلُ أَنَّ رَفَعَ الْجِسْمِ مَا كَانَ عِنْدَ بارہ میں یہ ہوتا کہ وہ جسم عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے الْيَهُودِ مِنْ عَلَامَاتِ أَهْلِ الْإِيْمَانِ، وَمَا ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ جسم کا اُٹھایا جانا یہود کے نزدیک كَانَ إِنْكَارُهُمْ إِلَّا مِنْ رَّفْعِ رُوحِ عِیسَی اہلِ ایمان کی علامت نہیں تھا اور ان کا انکار محض عیسی کے وَكَذلِكَ يَقُولُونَ إِلى هَذَا الزَّمَانِ، فَإن رفع روحانی سے تھا اور وہ اب تک یہی مانتے ہیں۔اگر ہم فَرَضْنَا أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى: بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ فرض کر لیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کا